Rang Mahabbat Kay رنگ محبت کے
رنگ محبت کے
(شاعری)
...
منیر انورؔ
طیب پبلشرز
عقب قرآن سنٹر چیٹرجی روڈ اُردو بازار لاہور
جملہ حقوق بحق شاعر محفوظ ہیں
نام کتاب : رنگ محبت کے
شاعر : منیر انورؔ
اشاعت : 2020
صفحات : 176
مطبع : عبداللہ زبیر پرنٹرز
ناشر : محبوب الرحمٰن انور
قیمت :
قانونی مشیر
عبدالحفیظ انصاری
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور
انتساب
پھول، خوشبو، خوشی اور خوبصورتی احساسات کی زینت ہیں۔
میرے لئےان کی حیثیت تلخیوں اور مایوسیوں کے خلاف
حفاظتی حصار کی سی ہے۔
یہ کاوش اسی مہرباں حصار کے نام
فہرست
نمبر شمار
عنوانات
صفحہ نمبر
پیش لفظ
9
آئو حجت تمام کرتے ہیں
12
حصہ غزلیات
1
حضورِ ربِ کائنات
35
2
نعت رسولِ مقبول ﷺ
37
3
کبھی کبھی تو ان کو یوں بھی حوصلہ دیا گیا
38
4
چاند کچھ بد حواس لگتا ہے
40
5
بے ضرورت پڑی رہتی ہے ضرورت اس کو
42
6
یاس لمحوں میں ترا عہدِ وفا یاد آیا
44
7
گلی گلی ہیں بھیڑیے محافظوں کے روپ میں
45
8
اپنے اندر دھیان لگائے بیٹھا ہوں
47
9
ہم زباں، ہم نفس، ہم قدم
48
10
جب کسی دل کا حال جھانکتا ہے
50
11
آگ جو بھڑکی ہے، اپنوں کی لگائی ہوئی ہے
52
12
وعدئہ صدق و صفا تک نہ کیا
54
13
کسی کی آنکھیں کسی کے رخسار جل اٹھیں گے
55
14
اس نے جب بات کی اداسی کی
57
15
بغض دلوں میں بھرتے ہو، کچھ سوچو تو
59
16
یہ کیا کہ اپنا بھرم خاک میں ملا دینا
60
17
میں اپنے ہونے کا اپنی وسعت کی حد میں تاوان بھر چکا ہوں
62
18
ہمارے خدشات کے درُوں سے مہیب سائے نکل رہے ہیں
64
19
اس نے بخشے ہیں گرد باد ہمیں
66
20
ترے خیال میں حد سے گذر گیا کوئی
68
21
جان باقی نہیں ہے جان میں کیا
70
22
ہر سینے میں اک صحرا آباد رہے
72
23
خوشبو نے انجام دیا ہے کام مرا
74
24
دو قدم میں کٹ جائیں راستے محبت کے
76
25
گوری رنگت والے دل کے کالے ہیں
78
26
کچھ آپ کا لحاظ کچھ اپنا خیال ہے
80
27
پیار ہے شاعری، دوستی شاعری
82
28
تیرے اس شہرِ عداوت میں بکھرنے والے
85
29
جنگل میں تیری یاد سے منگل کیا گیا
87
30
فَقر کا اپنا مزہ ہے مسکراتے ظالمو
89
31
پھانکتے خاک چلے آئے ہیں بازاروں سے
90
32
میرے لہجے میں تلخی تھی یوں بھی ہے
92
33
اسے بھلانا تو ایسا کہاں ضروری ہے
93
34
دستک دے کر چھپ جاتے ہو
95
35
خانہء دل کو یوں سجاتے ہیں
97
36
جب حسنِ بے ثبات کی جھولی میں جا گرا
99
37
ظلم پر خاموش رہتی بستیاں کیسی لگیں
101
38
پھر ماحول میں خوشیاں جاگیں، آس اُگے
103
39
وہ تو کہتا ہے عارضی سمجھوں
105
40
وہ جب ان آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تھا
107
41
منافقین کو اپنا بنا نہیں سکتے
109
42
اقتضائے شباب اپنی جگہ
111
43
چل کوئی اہتمام کرتے ہیں
113
44
میری تحریر پھاڑ دی اس نے
115
45
اب ہے ہارنے والا
117
46
سویا ہوا تھا، آ کے جگانے لگے مجھے
119
47
بنا سوچے مقابل آ رہا تھا
121
48
ایک جوہر ہے مست حالوں میں
123
49
مری تو اس سے فقط عارضی رفاقت تھی
125
50
اپنی ساری اٹھان بھول گئی
127
51
اک محبت شناس ہے تو سہی
129
52
اس کے ہاں کیا وہ معتبر ہو گا
130
53
میں بھی اچھا تھا وہ بھی پیارا تھا
132
54
اپنے مابین جو رفاقت ہے
134
55
جھوٹ جب درجہء ایمان میں آ جاتا ہے
136
56
ہم اپنے احساس کے پھولوں سے ہر سینہ مہکائیں تو
138
57
ہم یوں تیری یاد میں اکثر کھو جاتے ہیں
139
58
بہت برہم نظامِ زندگی ہے
141
59
تمہیں گماں کہ رکاوٹ بنا ہوا ہوں میں
143
60
گئی رتوں کا نظر سے غبار گزرے گا
145
61
تمہارا قرب سفر کا مآل ہو جائے
147
62
قطعہ
149
حصہ نظم
1
گردشِ ایام
150
2
آغاز
152
3
تضاد
153
4
کہانی
154
5
شاعری
155
6
ایف بی فرینڈ
157
7
امرینہ
159
حصہ پنجابی
1
تینوںکُجھ وی دسیا نئیں سی
161
2
ازلاں دے پانی نیں کوئی اَجدے نئیں
163
3
ایہ تیرےنہ میرے لوک
165
4
ساڈے گھر دے دیوے ویکھ کچیچی وٹ دی تُر پینی ایں
167
5
اوکھے ویلے تھوڑے لبھدے، اوویں یار بتھیرے
168
6
نت ایتھے اک چَن چڑھایا جاندا اے
170
7
تُوں آکھیں تے رنجش والی ساری گَل مکا دینے آں
172
8
اپنے گَل وچ پھاہی پائی بیٹھا واں
174
9
ایک سرائیکی قطعہ
176
٭٭٭
پیش لفظ
گل و خار چولی دامن کے ساتھی ہیں۔ خود ہم کہیں گلِ تر ہیں تو کہیں خارِ مغیلاں۔ کرنا بس یہ ہوتا ہے کہ پھول اور خوشبو سنبھالیے۔ جبکہ کانٹوں سے لگنے والے چھید رفو کرتے جائیے۔ محبت و احترام کے پھول اگاتے جائیں اور اپنی بساط کی حد تک ماحول کو معطر کرتے جائیں۔” شکوئہ ظلمتِ شب“ فطری سہی، لیکن اپنے ”حصّےکی شمع“ جلانا مت بھولیں۔
”رنگ محبت کے“ میرا تیسرا شعری مجموعہ ہے۔ اور اس میں یہی سب میرے موضوعات ہیں۔ معیار کا تعین تخلیق کار کا اختیار نہیں۔ یہاں مجھے عزیز دوست جناب عبدالرشید کی پر خلوص رائے شامل کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ یہ زیرِ نظر کتاب پر تبصرہ نہیں بلکہ ان کے محبت پر مبنی احساسات ہیں۔
”منیر بھائی سے تعارف لگ بھگ چالیس سال پرانا ہے۔ یہ تعارف انیس سو پچاسی میں دوستی کے سانچے میں ڈھل گیا۔ کتاب دوستی، شاعری اور موسیقی سے دلچسپی اس کی بنیادی وجوہات تھیں۔ پائیدار تعلق کے لیے تو ایک ہی مشترک دلچسپی کافی ہوتی ہے ۔ یہاں تو بات سہ آتشہ تھی۔ سو ہم اب بھی ان کے حلقہ دوستاں میں شامل ہیں۔ اس لئے بھی کہ بقول ان کے۔ ؎
ہم اپنے حلقہء یاراں میں انورؔ
کسی تفریق کے قائل نہیں تھے
علامہ اقبال نے اپنے ایک مضمون میں شاعروں کو جادو گر لکھا ہے، اور بجا لکھا ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے بیانیے کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اور شاعری میں تو اور بھی مشکل ہے۔ بیسیوں پابندیاں دامن گیر ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی واقعی شاعر بن جائے تو وہ جادوگر ہی کہلائےگا۔ ہمارے منیر انور بھی ایسے ہی جادوگر ہیں۔ وہ نظم و نثر میں یکساں مہارت رکھتے ہیں۔ لیکن شاعری زیادہ کی ہے اور خوب کی ہے۔ ایک وسیع حلقہ ان کی شاعری اور شخصیت کا معترف ہے ۔
منیر انور جاذب نظر شخصیت کے مالک ہیں۔ اپنی بات کہنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔اور صرف کہتے ہی نہیں، سنتے بھی ہیں ۔وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوتے۔ دلیل سے متاثر کرتے بھی ہیں اور ہوتے بھی ہیں۔ ہمارے بہت سے اہل سخن مذہب بیزار رویے کے ساتھ ساتھ شاعری میں شہوانی جذبات کا بے محابہ اظہار کرتے ہیں۔ منیر ایسی لغویات سے کوسوں دور ہیں۔ مذہب اور ملک سے محبت ان کی شاعری اور شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ موسیقی سے دلچسپی نے ان کی شاعری میں نغمگی بھر دی ہے ۔ میں اپنی بات انہی کے ایک شعر پر ختم کرتا ہوں۔ ؎
آنکھیں روشن ،لہجے رس کے پیالے جی
یہ ہیں لوگ محبت کرنے والے جی“
مجھے مزید جو بھی کہنا ہے وہ بصورتِ شعر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ میں ہمیشہ سب کے لئے پروردگارِ عالم سے رحمت کا خواستگار ہوں۔ اللہ دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین
11 اکتوبر 2020
منیر انور
لیاقت پور،پاکستان
0333-7471917
آؤ حجت تمام کرتے ہیں
تخلیق شعور کا فیصلہ ہےاور شعور کے فیصلے امکانی اثرات کی پرواہ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی تخلیق کار کو اور کبھی اس کے فن کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔ اردو شاعری کے حوالے سے دیکھا جائے تو گذشتہ زمانوں میں یہ کسی نہ کسی صورت شاہی دربار سے منسلک رہی ہے اور بہت سے شعراء نے اپنے دور میں مقام و مرتبہ پایا، جب کہ غالبؔ کی " استادِ شہ " بننے کی حسرت نا تمام ہی رہی۔ وہ ذوقؔ جیسی اہمیت نہ پا سکے۔ ابراہیم ذوق اپنی شاعری میں محاورات کا استعمال کرتے اور زبان دانی کی بناء پر خوب داد پاتے، اور اسی وجہ سے ملک الشعراء کہلائے۔ غالب اپنی شاعری کو گنجینہء معنی کا طلسم مانتے اور اکثر کہتے کہ میرے اشعار کو وہ پذیرائی نصیب نہیں ہوئی جن کے وہ حق دار تھے، لیکن ایک دور آئے گا جب اہلِ شوق و اہلِ نظر میری شاعری کو تسلیم کریں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ذوقؔ کی شاعری کی وہ اہمیت نہیں جو غالبؔ کی ہے۔
فنی معیارات کو پرکھنے کے لئے بنائے جانے والے اصول تبدیل ہوتے رہتے ہیں جس کی بناء پر کسی بھی لمحے کوئی شاعر ابھر کر سامنے آ سکتا ہے اور نامی گرامی شعراء غیر مقبول ہو سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے جس دور کا ادب اپنے اطراف بکھری زندگی اور اس کی جراحتوں سے ناواقف ہو اور اپنے عصری تقاضوں کا ادراک نہ رکھ سکے، وہ بس اتنی دیر ہی سانس لے سکتا ہے جتنی دیر کوئی سوہنی مٹی کے گھڑے پر دریا پار کر سکتی ہےیا پرجوش ہجوم کی بے ہنگم آوازوں کے شور میں کسی کم سن بچے کے رونے کی آوازجو اپنے ہونے کا احساس دلائے بغیر ارد گرد کی توانا آوازوں میں دم توڑ جاتی ہے۔ہر دور اپنے ادب کی حقیقتوں، تہذیبی عوامل، اس کے خد و خال کی شکست و ریخت اور سماجی قدروں کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے اور اس کی شعری روایات و کردار و عمل کا نگران و پاسدار بھی۔
شاعری ایک الہامی وصف کی صورت ہے اور اس کا تعلق باطنی حواس سے بہت گہرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب شعر کو اظہار کے پیرائے میں ڈھالا جاتا ہے تو اس میں شعور اور لاشعور، دونوں کارفرما ہوتے ہیں۔اس طرح ایک سچا اور کار آمد شعر ذہنی مشقتوں سے گزر کر اور فہم و فراست کو بروئے کار لا کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
تاریخی حوالوں سے دیکھا جائے تو شعراء کے ہاں دو قبیلوں کا ذکر آتا ہے۔ ایک" شعر ”لکھنے والے“ ،جن کا تعلق علم عروض کے ماہرین سے ہے۔ دوسرے " شعر کہنے والے"، جن میںلفظ کی صحت، موثر سلیقہء اظہار، لفظوں کو برتنے کے فن،زندگی کے مختلف پہلوؤں کو محسوس کرنے اور کلام کی روح سے آگاہی رکھنے والے شامل ہیں۔
منیر انورؔؔ جیسے واقفِ فن، پر مغز، بالغ نظر اور بے تاب جواں شاعر کا تعلق " شعر کہنے والے" قبیلے سے ہے جس کی شاعری میں لفظوں اور اس کی فکر میں ایک عجیب سی چمک دکھائی دیتی ہے۔ وہ خود کہتا ہے۔ ؎
اک عروضی عروض کے فن کو
چاہتا ہے کہ شاعری سمجھوں
میرے کچھ دوستوں کی خواہش ہے
ہر سخن ساز کو ولی سمجھوں
اس نے روایت کے تسلسل میں اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن جلد ہی امکانات کے نئے افق اس کی نگاہوں میں سمانے لگے اور وہ فکر و فن کی ابتدائی منازل کو تیزی سے طے کرتے ہوئےدورِ جدید کے ان غزل گو شعراء میں شامل ہو گیا جو روایات و جدّتِ فکر کو اپنے کمال فن میں سمیٹ سکتے ہیں۔ ؎
میں کا زعم اور عشق کی بازی؟
کیا کرتے ہو، کیا کرتے ہو
بہر کیف، ادب کے ہر فکری موڑ پر ایک نیا ذہن پیدا ہو سکتا ہے۔ غالبؔ، مومنؔ، فراقؔ، فیضؔ، ن م راشدؔ اور کئی شعراء ہیں جنہوں نے اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے فکر کے نئے زاویے متعین کئے ہیں۔
منیر انورؔؔ کا ذہن نیا ہے۔ اس کے ہاں گہرے شعور اور فکر کی بالیدگی کے ساتھ ساتھ اضطراب و جستجو کا عنصر پایا جاتا ہے۔عام گفتگو ہو یا شعر ہو، اس میں ایک شدید کرب موجود ہے۔ ایک مسلسل اداسی کی لہر ہے جو اس کے اندر سے اٹھتی ہے اور اسے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہے؟ ؎
اللہ پر ایماں رکھنے والو آخر
کیوں طاغوت سے ڈرتے ہو، کچھ سوچو تو
٭٭٭
آپ کے شہر میں کیا بیت گئی ان پر
پوچھیے خون میں لتھڑے ہوئے غم خواروں سے
٭٭٭
کرب ہے اور دل و جان کو آیا ہوا کرب
اک اداسی ہے کہ ماحول پہ چھائی ہوئی ہے
موجودہ دور میں جب فکری انتشار اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، وہاں منیر انورؔ کی ذہنی بلونت و بلیغ کاوش کم ہی نظر آئے گی کہ اس نے ذاتی دکھ درد کو سمیٹ کر معاشرے کو شعور و آگہی کا لبادہ پہنا یا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ انفرادی در د و غم اجتماعی دکھ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
ابھی تو آنکھ سے ٹپکا ہے درد کا لاوا
ابھی یہ زہر رگوں کے بھی پار گزرے گا
جہاں تک شاعر کے معاشرتی حقوق و فرائض کا تعلق ہےتو یہ بلا شبہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں، قلبی وارداتوں اور احساسات پر مبنی ہے کہ وہ اپنے عہد کی وسعتوں کو سوچ کی گہرائی اور شعوری پختگی کی مدد سے کہاں تک دیکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔منیر انورؔؔ کے ہاں یہی گہرائی اور پختگی ملتی ہے جس کی بدولت وہ ادب کے وسیع کینوس پر اپنے عہد کے پس منظر اور پیش منظر کی پرتیں کھولتا نظر آتا ہے۔ وہ اپنے عہد کے اس منافقانہ رویے پر کڑھتا ہے جو " مردار انسان" کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ہر اچھا خواب دیکھنے والے کی آنکھیں نوچ کر پھینک دینا چاہتا ہے۔ وہ ان معاشرتی ناسوروں کے خلاف ہر وقت نبرد آزما رہتا ہےجو " شہرِ خیال" کا سہانا خواب دکھا کر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ وہ " منزلِ مراد" پانے کی خواہش میں اپنے زخمی پاؤں سے " رِستے خون" اور راستے پر بچھے خاروں سے تازہ گلاب کھلانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے بدن پر صدیوں کی مسافت کی تھکن لپیٹے، اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ " رہبروں" کے روپ میں " راہزن" ملیں گے، منزل کی طرف رواں دواں نظر آتا ہے۔ وہ ایک سچا اور کھرا انسان ہے جسے اپنے عہد میں مقام بنانے اور اپنے عصر کے جغرافیائی پیمانوں سے اپنا فکری و فنی قد ناپنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنی ذات میں کائنات ہے اور اپنی فطری خوبیوں کو منکشف کرنے کے راز سے بخوبی واقف ہے۔ ایسا شاعر جو اپنی ذات کا محاسبہ کرتا ہے اور کسی طور جھوٹ اور منافقت پر سمجھوتا نہیں کر سکتا۔ وہ بھڑکتی آگ کے شعلوں کا ہم سفر ہوتے ہوئے بھی اپنے بعد آنے والوں کے لئے راستے بناتا ہے، انہیں منزلِ مقصود پر پہنچانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔
جھوٹ جب درجہء ایمان میں آ جاتا ہے
ایک مردار سا انسان میں آ جاتا ہے
٭٭٭
تعمیر سونپ کر ہمیں شہرِ خیال کی
نقشہ ہماری آنکھ سے اوجھل کیا گیا
٭٭٭
ہم اہلِ شوق زخم چاٹتے رواں دواں رہے
سڑک پہ خار تھے بچھے ہوئے گلوں کے روپ میں
کہا گیا تھا منزل مراد پائیں گے مگر
ہمیں جو راہزن ملے ہیں رہبروں کے روپ میں
٭٭٭
منافقین کو اپنا بنا نہیں سکتے
ہم اپنی مٹی پہ تہمت لگا نہیں سکتے
٭٭٭
آئینے میں اپنا عکس ہے میں جس پر
کتنے سرخ نشان لگائے بیٹھا ہوں
٭٭٭
آپ بھڑکائیں آگ کے شعلے
ہم بجھانے کا کام کرتے ہیں
٭٭٭
منیر انورؔ اپنی تہذیب و معاشرت کا عکاس نظر آتا ہے جو جغرافیائی حدود و قیود سے بالا تر رہ کر تمام انسانوں کے سچے جذبوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ قبیلہ واریت، رنگ و نسل، ذات پات کی تفریق، افراد کی خود ساختہ ترجیحات ہیں اور طبقاتی تضاد انسان کی عزتِ نفس مجروح کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اسی لئے وہ آدم کی بجائے " آدمیت" اور ذہن کی بجائے " ذہنیت" کا قائل ہے۔
آدمیت ہے محترم انورؔؔ
ورنہ مرزا میں کیا ہے، خان میں کیا
٭٭٭
عجیب تاریک روشنی ہے، جو سارے منظر کو کھا رہی ہے
غلام ذہنوں کی ضد ہے لیکن کہ درد کے دن بدل رہے ہیں
طبقاتی مناقشت، مذہبی منافرت، نسلی امتیازات اور گروہی تعصبات انسانی فکر کو پست و پامال کر دیتے ہیں۔ منیر انورؔ کی شاعری انہی دکھوں پر بین کرتی ہے۔ وہ کبھی ذات پات کی تقسیم پر کڑھتا نظر آتا ہے تو کبھی " اونچے شملوں" اور " بلند کلغیوں" میں ناروا منافست کی نشاندہی کرتا ہے، جس نے انسانی ذہنی ارتقاء کے عمل میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔کہیں وہ خون میں لتھڑے ہوئے غم خواروں کے لئے پریشان ہے جو منتقمِ مجازی کے حکم کے منتظر ہیں کہ کب انہیں انصاف مل سکے گا۔ لیکن مال و منال کی ہوس میں مبتلاء " بڑے لوگوں" کا غیر منصفانہ رویہ ان کی مجبوری و بے بسی کو بڑھا دیتا ہے۔ کہیں منتشر ہوتے وجود کی کرچیوں کو سمیٹنے کی خواہش میں بکھرتے ہوئے ان افراد کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جبرِ نقصان کے انتظار میں اندر سے ریزہ ریزہ ہو چکے ہیں۔
میں اپنے ہونے کا اپنی وسعت کی حد میں تاوان بھر چکا ہوں
کبھی کبھی تو مجھے لگا ہے کہ جیسے اندر سے مر چکا ہوں
مرے عناصر کا انتشار اب کسی کے بس کا نہیں رہا ہے
میں اپنے ریزے سمیٹ لینے کی دھن میں یکسر بکھر چکا ہوں
٭٭٭
کسی بڑے کا نام آ گیا تھا اتفاق سے
معاملہ جو زیرِ بحث تھا، دبا دیا گیا
٭٭٭
آپ کے شہر میں کیا بیت گئی ہے ان پر
پوچھیے خون میں لتھڑے ہوئے غم خواروں سے
٭٭٭
کلغیوں، شملوں کے نیچے آدمی بھی ہے کوئی
کلغیوں، شملوں کے پیچھے سر کٹاتے ظالمو
٭٭٭
میں نے کہا کہ پیار ہے انسان سے مجھے
لیکن وہ ذات پات کی جھولی میں جا گرا
٭٭٭
نہ تھا جی دار وہ اتنا بھی لیکن
کوئی تھا جو اسے بہکا رہا تھا
اب تو بچوں کے پٹاخوں سے بھی ڈر جاتے ہیں
کھیلنے والے دہکتے ہوئے انگاروں سے
منیر انورؔ کی شاعری اضطرابی کیفیت، تشکیک اور امید و بیم سے اطمینان کی طرف سفر کرتی ہے۔ وہ اپنے فکری زاویوں کو کائنات کے تلخ حقائق سے بے خبر نہیں ہونے دیتا ۔ وہ معاشرتی الجھنوں، دشوار گزاریوں کی نشاندہی کرتا ہے لیکن " امید" کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اس کا ماننا ہے کہ" دشمن گر قوی است، نگہبان قوی تر است"۔ اسی لئے وہ امید کی فصلیں بوتا اور دامن میں روشن دنوں کے خوشے بھرتا ہے۔ وہ خدا کے بندوں کو " تذبذب کی کیفیت" سے نکلنے اور اپنے فکر و شعور کے گرد بیڑیوں کے حصار کو توڑ دینے کا مشورہ دیتا ہے۔وہ یقین دلاتا ہے کہ " دشمن چہ کند چو مہربان باشد دوست" ۔
میرے دامن میں امیدوں کے ہیں خوشے انورؔؔ
اور ان پر بھی نظر اس نے لگائی ہوئی ہے
٭٭٭
تالیاں پیٹتے مجمعے سے نکل کر انورؔؔ
جیت سکتا ہے جو میدان میں آ جاتا ہے
٭٭٭
خدا کے بندو یقین رکھو کہ تم اٹھے تو
یہ خانقاہیں، یہ سارے دربار جل اٹھیں گے
سنو تذبذب کی کیفیت سے نکل کے دیکھو
یہ بیڑیاں ٹوٹ جائیں گی، دار جل اٹھیں گے
ہم امید کی فصلیں بوتے ہیں انورؔؔ
اور کوشاں ہیں دھرتی پر یاس اگے
٭٭٭
آئیے انتظار کرتے ہیں
کون، کب، کتنا معتبر ہو گا
٭٭٭
آئیں مل کر اپنے بچوں کی خاطر
دھول کدورت کی سینوں سے دھو جاتے ہیں
منیر انورؔ کے ہاں مسلسل اضطرابی کیفیت انسانی ذہن اور اس کے اعصاب کو اپنی لپیٹ میں لے کر اسے میدانِ عمل کے نئے گوشوں سے متعارف کراتی ہے اور انسان اس گھوڑے پر سوار وقت کی طنابیں تھامے زندگی میں نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔ اس پر زندگی کے نئے مفاہیم منکشف ہوتے ہیں۔اضطراب جب کسی انسان پر اپنا تسلط جماتا ہے تو جسم کے ساتھ اس کی روح تک کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ انورؔؔ کی شاعری ایک جان لیوا کرب میں لپٹی ہوئی ہے۔ لیکن وہ عواقب بینی اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے از خود وارفتگی میں مبتلاء نہیں ہوتا بلکہ رنج سہہ کر برو مند ہوتا ہے۔ اس کی غزل میں کچھ سوالات ، زیرِ لب جوابات اور ان میں پائے جانے والے اندیشے فرسودہ ذہنوں کو ساکن کر دیتے ہیں۔
ظلم پر خاموش رہتی بستیاں کیسی لگیں
فیصلے کے وقت آتی پرچیاں کیسی لگیں
٭٭٭
درد سینے میں دبا کر ناچنا کیسا رہا
آنسوؤں میں بھیگتی سرمستیاں کیسی لگیں
٭٭٭
اُٹھ مرے ساتھ رقص کر انورؔؔ
ایسی تیسی تری اداسی کی
انورؔؔ کی شاعری نامنصفی، بے قراری و بے چینی، جذباتی کشمکش، سوگواری، اداسی، رنج و محن، بھوک اور افلاس، ظلمتِ شب، تنہائی، بے حسی و بے بسی جیسے موضوعات سے بھرپور ہے۔ وہ معاشرتی، معاشی، سیاسی کوتاہیوں اور ناہمواریوں کے خلاف شدید احتجاج کرتا ہے۔ظالم اور مظلوم کی نشاندہی اس کی شاعری میں جابجا نظر آتی ہے۔ بعض اوقات وہ ظلم کے خلاف آستینیں چڑھا لیتا ہے اور شدید غم و غصے کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن اس کا غصہ ایک ایماندار شخص کا غصہ ہے۔ جو آتا بھی جلد ہے اور جاتا بھی جلد ہے۔ وہ جہاد کرتا ہے، فساد نہیں۔اس کی مطالعاتی، مشاہداتی اور تجرباتی آنکھ سماجی برائیوں اور مخفی حقیقتوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ وہ معاشرتی جبر کا شکار لوگوں کی داستاں بیان کرتا ہے جہاں انصاف حاصل کرنے کی امید میں عمریں بیت جاتی ہیں۔ جہاں بھوک، افلاس میں مبتلاء معصوم بچے بلکتے رہتے ہیںاور مائیں بے بسی کی تصویر بنی رہ جاتی ہیں۔جہاں دکھ، اخلاقی پستی، طبقاتی اور معاشرتی نا انصافیوں کی بلند و بالا فصیلیں ہیں۔جہاں کچی عمر کے سہانے خواب بننے والی لڑکیوں پر بھیڑیا صفت انسان بھنبھناتے نظر آتے ہیں اور بعض اوقات وہ گھناؤنا کھیل کھیلتے ہیں کہ ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ اسی لئے منیر انورؔ یہاں معاشرتی بے حسی و بے بسی پر نوحہ کناں ہے۔
زندگی کا مسئلہ اس کھیل سے آگے کا ہے
آتی جاتی لڑکیوں پر بھنبھناتے ظالمو
کتنی بے بس مائیں پی جاتی ہیں آنسو
کتنے بچے روتے روتے سو جاتے ہیں
٭٭٭
تم اپنا سورج سنبھال رکھو، مجھے اب اس سے غرض نہیں ہے
کہ میں رویوں کی سرد آغوش میں مکمل ٹھٹھر چکا ہوں
٭٭٭
حکم تو ہے یہی مگر کیسے
ظلمتِ شب کو روشنی سمجھوں
٭٭٭
کم تو کچھ میرا اثاثہ بھی نہیں ہے اور کچھ
تیرا دکھ بھی میرے سامان میں آ جاتا ہے
٭٭٭
کوئی تو میرا کرب سمجھے گا
کوئی تو صاحبِ نظر ہو گا
٭٭٭
ہماری امن کی خواہش کو ظالم
ہماری بزدلی ٹھہرا رہا تھا
ماہرینِ نفسیات کے انکشافات کے مطابق محبت اور نفرت جبلی خصوصیات ہیں اور ان کا تعلق روح اور جسم سے ہے۔ گویا یہ جسم اور روح کی یکجائی کا اظہار ہے۔ شعراء کے ہاں ان جذبات و احساسات کی ترجمانی کے لئے غزل سے بہتر صنف شاید ہی کوئی ہو۔
اردو شاعری میں رومانوی موضوعات کی بہت اہمیت رہی ہے۔ اور بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کے پیشِ نظر ان میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ محبوب سے گفتگو، اس سے چھیڑ چھاڑ اور اس کے حسن و جمال کا تذکرہ ہمیشہ انسان کو بھاتا ہے۔ یہ موضوعات پوری آب و تاب سے منیر انورؔ کے ہاں بھی جلوہ گر ہیں۔ ان کی غزل میں معاملاتِ عشق، متعلقاتِ محبت، محبوب کا حسن و جمال، سادگی و پرکاری، معصومیت، وفا ناشناسی، نا آسودگی اور ہجر و وصال کی لذتیں بڑے دلکش انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ اس کی شاعری میں " آنکھ" کو عشقیہ اور جمالیاتی انداز میں عمدگی سے برتا گیا ہے۔
ان ستارہ مثال آنکھوں سے
دل کے شب زار جگمگاتے ہیں
٭٭٭
تیری آنکھیں اداس ہوں تو مجھے
سارا عالم اداس لگتا ہے
٭٭٭
تیری آنکھوں کا ذکر بھی آیا
گفتگو جب چلی اداسی کی
٭٭٭
ابھی تو آنکھ سے ٹپکا ہے درد کا لاوا
ابھی یہ زہر رگوں کے بھی پار گزرے گا
٭٭٭
ہائے وہ زندگی نواز آنکھیں
کھو گئیں جانے کن خیالوں میں
اور اچانک آنکھ سے اوجھل ہونے والے
پلکوں میں اشکوں کے ہار پرو جاتے ہیں
غزل میں حسن و عشق کا بیان ولی دکنی سے غالب، فیض اور فراز سے ہوتا ہوا منیر انورؔ تک، تقریباً سب کے ہاں ملتا ہے۔ہر ایک نے اپنے اپنے نکتہء نظر سے تصورِ عشق کو غزل میں پرویا ہے۔موضوعات کے حوالے سے دیکھا جائے تو سب شعراء کے ہاں تقریباً ایک ہی جیسے ملتے ہیں۔ حسن و خوبی، التفات، کج ادائی اور پھر رقیب کا کسی نہ کسی صورت موجود رہنا۔
منیر انورؔ کے ہاں بھی یہ روایتی موضوعات قدرے مختلف انداز سے موجود ہیں۔ اس کےہاں حسن و عشق کے موضوعات پر کہے گئے اشعار میں تنوع اور رنگا رنگی کے ساتھ ساتھ وسعتِ نظر اور تخیلاتی گہرائی ملتی ہے۔
مثال کوئی محبت کی دی نہیں میں نے
وہ سامنے تھا تو ایسی کہاں ضرورت تھی
٭٭٭
اک تصور کہ محیطِ دل و جاں ہے انورؔؔ
گل کہوں، رنگ کہوں، خوشبو، کہ فرحت اس کو
٭٭٭
میرے اشعار کے جھروکوں سے
اس کا حسن و جمال جھانکتا ہے
٭٭٭
مجھے پتا بھی نہیں چل سکا مگر مجھ میں
تمام رنگ محبت کے بھر گیا کوئی
ہوائیں جن کے اشاروں پہ رقص کرتی ہیں
چراغ وہ میرے رستے پہ دھر گیا کوئی
اس کا محبوب تصوراتی نہیں بلکہ جیتا جاگتا متحرک انسان ہے۔جو روایتی طور پر حسین و جمیل، معصوم ادا ہونے کے ساتھ وفا نا شناس بھی ہے۔ لیکن منیر انورؔ شقاوتِ محبوب کا خیر مقدم کرتا نظر آتا ہے۔
میرے ہر تارِ نفس نے تجھے محسوس کیا
دل کی بستی سے دبے پاؤں گزرنے والے
٭٭٭
ہم اب بھی چاہتے ہیں مسائل کا حل مگر
اس کی طرف سے اب بھی وہی قیل و قال ہے
٭٭٭
بھول جانے پہ معذرت کیسی
تو نے رکھا ہی کب تھا یاد ہمیں
٭٭٭
تمہیں بھلانا مشکل ہو گا
میرا اچھا وقت رہے ہو
٭٭٭
رہِ وفا نہیں سب کے نصیب میں انورؔؔ
یہاں سے صرف کوئی راز دار گزرے گا
ایسی ہمت و جرات، جو محبت یا عشق عطا کرتا ہے، اسی کو ملتی ہے جو محبت میں دل تو وار دے لیکن دماغ نہ ہارے۔منیر جو محسوس کرتا ہے اسے اپنے لاشعور کی طاقت سے تخلیقی عمل سے گزار کر شعر کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے اشعار میں انفرادی و اجتماعی تجربات بولتے ہیں۔
تیرے الفاظ میں تلخی کی چبھن یاد رہی
تیرے لہجے میں چھپا قہرِ بلا یاد آیا
اس کے انداز کی خوبی تھی کہ اک عمر کے بعد
اس کے جذبوں میں صداقت کا خلاء یاد آیا
اس کے کئی اشعار بہت نازک اور لطیف تاثر سے بھرپور اچھوتے تصورات بیان کرتے ہیں۔ مثلاً
حسد بڑھاتا ہے پیہم رفاقتوں کا مزا
کوئی رقیب رہے درمیاں ضروری ہے
٭٭٭
جانے کس زعم میں کرتا ہے بچھڑ جانے کی بات
دے نہ دوں میں بھی کسی روز اجازت اس کو
٭٭٭
ہم محبت تمام کر بیٹھے
آؤ حجت تمام کرتے ہیں
٭٭٭
تو مرے پیار کی کہانی کا
گم شدہ اقتباس لگتا ہے
منیر انورؔ کی شاعری میں روایتی شعور اور ذاتی تجربہ، دونوں شامل ہیں۔ اس کی غزل میں مختلف کیفیات ظاہر ہوتی ہیں۔ جب محبوب سے راز و نیاز کی سرگوشیاں ہوں یا معاملہ بندی کی حالت کا ذکر ہو تو اس کی زبان نرم، کومل اور دھیمی ہو جاتی ہے۔ جبکہ حالتِ معتوب و متنفر ہو تو اس کی ذات کی تلخیاں اس کے لفظوں سے جھانکنے لگتی ہیں۔ معاملہ بندی کے حوالے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
لمس تھا کوئی کہ جادو کی چھڑی تھی
میں اسی لمحے مکمل ہو گیا تھا
ایک نقطے پر سمٹ آئے تھے دونوں
آئینے کا مسئلہ حل ہو گیا تھا
اس کے لفظوں سے مہک آنے لگی تھی
اور سب ماحول صندل ہو گیا تھا
اکتشافِ ذات کا لمحہ تھا انورؔؔ
اور میرا ذہن ہی شل ہو گیا تھا
٭٭٭
اس نے تسلیم کر لیا ہے مجھے
اضطراب و حجاب اپنی جگہ
٭٭٭
ان ہونٹوں نے سرگوشی کی
انورؔ تم کتنے اچھے ہو
عاشق کے لئے رومانی وارداتوں کو بھلانا ممکن نہیں ہوتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ نامہ و پیام اور میل ملاقاتوں کا سلسلہ خواب و خیال لگنے لگتا ہے لیکن وہ کسی نہ کسی صورت گذشتہ سے پیوستہ رہتا ہے۔ اسی لئے ہجر و وصال کی لذتوں اور تلخیوں کے ذائقے کبھی فراموش نہیں کئے جا سکتے۔ منیر انورؔ کے ہاں یہ کیفیات اکثر ملتی ہیں اور ان کی شدت سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ اس کا ذاتی تجربہ ہو۔
عادتاً چھوڑ دیا اس نے مجھے
فطرتاً میں نے گلہ تک نہ کیا
٭٭٭
میری غزلوں کا معجزہ دیکھا
ہجر سے بھی وصال جھانکتا ہے
٭٭٭
جانے کب واپسی کا اذن ملے
میں نے مڑ مڑ کے اس کو دیکھا تھا
٭٭٭
لہو میں رقص کرتی ہے محبت
رگوں میں نارسائی چیختی ہے
٭٭٭
وہ جب ان آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تھا
شہر انسانوں کا جنگل ہو گیا تھا
٭٭٭
مقام ایسا محبت میں آ گیا ہے جہاں
فراقِ دوست کا لمحہ بھی سال لگتا ہے
دل میں ایک بیل تھی محبت کی
آج وہ بھی اُکھاڑ دی اس نے
٭٭٭
پھول اور کانٹے یکساں لگنے لگتے ہیں
ہونٹوں پر جب صحراؤں کی پیاس اگے
منیر انورؔ کے ہاں غنائیت میں رچا ہوا باوقار لہجہ ملتا ہے۔ مضمون و معانی الفاظ سے مربوط اور ہم آہنگ ہو کر شعر میں حسن و خوبصورتی اور موسیقیت پیدا کرتے ہوئے اس کی تشکیل و تکمیل کا باعث بنتے ہیں۔ شاعر کے الفاظ ہوں یا مغنی کی آواز کا زیر و بم، کسی مصور کے حسیں شاہکار کے ابھرتے نقوش ہوں یا سنگ تراش کی مجسمہ سازی۔ فنکار کو ذاتی اظہار کے لئے فہم و فراست، شعور کی پختگی اور فکری بلندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ منیر انورؔ کا کلام ان سب محاسن سے مالا مال ہے۔ اس کی غزل روایت اور اقدار سے جڑی ہوئی ہےاور اس کی یہ وابستگی معاشرتی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور روز مرہ کے متنوع تقاضوں کا شعور دیتی ہے۔وہ ایک نرم و گداز دل رکھنے والا شاعر ہونے کے باوجود عقلیت پسند انسان ہے اور عقل و شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے ذہنوں میں زندہ رہنے کا متمنی ہے۔ سستی اور سطحی شاعری کو محورِ فن سمجھ کر لکھنے والے ادب کی دنیا سے آہستہ آہستہ غائب ہو جاتے ہیں۔
منیر انورؔ کے ہاں جذبات شعور سے ہو کر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی حوالے سے اس کا رویہ مثبت، متوازن اور حقیقت پسندانہ ہے۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ زندہ ہے۔اس کی متعدد غزلیات میں ترنم کی چاشنی پائی جاتی ہے جنہیں موسیقاروں نے سر بخشے۔ چند غزلیں ریڈیو پاکستان لاہور سے ریکارڈ ہو کر نشر ہوئیں۔ مثلاً
خواب سب ایک خواب لگتا ہے
تیرا ملنا سراب لگتا ہے
٭٭٭
ہم زباں، ہم نفس، ہم قدم
راستے، دوریاں، زیر و بم
سب محبت کے ادوار ہیں
مسکراہٹ، ہنسی، چشمِ نم
اس نے روایت سے منسلک رہتے ہوئے جدید رویوں کی دنیا میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ کسی شاعر کی عظمت، شہرت و مقبولیت کا راز یہ ہے کہ حروف سے اس کا یارانہ ہو جائے۔ منیر انورؔ کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ چابک اس کے ہاتھ میں ہے اور لفظ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ اس نے شعوری کوشش کئے بغیر نہایت سادگی سے روز مرہ اور محاوروں کو مکمل صحت سے برتا ہے۔
جل نہ جائے جلتی پر
تیل ڈالنے والا
٭٭٭
یوں تو اس کی داڑھی میں بھی تنکا تھا
آئینے کی بات چلی تھی، یوں بھی ہے
٭٭٭
کچھ تو وہ بھی تیز مزاج کا تھا لیکن
ہم نے دکھتی رگ پکڑی تھی، یوں بھی ہے
منیر ایک سنجیدہ مزاج، باشعور اور مثبت فکری رجحان رکھنے والا داخلی و خارجی پہلوؤں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والا شاعر ہے۔ وہ دنیاوی رکھ رکھاؤاور اگر مگر کے چکروں میں پڑنے کی بجائےسچی، سیدھی اور کھری بات کرنے کا قائل ہے۔ اسے شاعرانہ تعلّی کہیں، انا پرستی یا احساسِ ذات۔ دیگر مانے ہوئے شعراء کی طرح اس کی شاعری میں بھی یہ شعور پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ ملتا ہے۔
ہم نے دو ٹوک بات کی انورؔؔ
لوگ الجھے رہے مثالوں میں
٭٭٭
عام سا آدمی سہی انورؔؔ
اس میں کچھ بات خاص ہے تو سہی
٭٭٭
میری تحریر پھاڑ دی اس نے
میخ سینے میں گاڑ دی اس نے
منیر انورؔ کے ہاں فنی حقیقتوں کا ادراک اور سنبھلی ہوئی فکری کاوشیں عظیم ادبی شعور کا پتہ دیتی ہیں۔اس کی غزل غم جاناں و غم دوراں کی ترجمان ہے۔ اس کی غزل میںدھوپ، آنگن، اضطراب، چراغ، ستارہ، آنکھیں، خوشبو، گل، رقص، دکھ، کرب، امید، وصال و ہجر، تنہائی، پیاس اور عکس وغیرہ ، وہ حوالے ہیں جو اردو غزل میں ایک مخصوص تناظر رکھتے ہیں۔ اردو شاعری میں دلچسپی رکھنے والا قاری ان کی اہمیت اور ضرورت سے بخوبی آگاہ ہے۔ "رنگ محبت کے" میں یہ سب حوالے منیر انورؔ کی نکھری ہوئی امیجری کے ذریعے اشعار کے سانچے میں ڈھل گئے ہیں۔منیر کے ہاں چشمِ نم، زیر و بم، چمن زار، شہرِ خیال، تارِ نفس، پیہم رفاقتیں، ظلمتِ شب، حجت تمام کرنے اور اکتشافِ ذات جیسی تراکیب اپنی پوری معنویت اور قوت کے ساتھ استعمال میں آئی ہیں۔ وہ نئی تراکیب وضع کرنے کے ساتھ مروج تراکیب کو منفرد سلیقے سے اپنے استعمال میں لایا ہے۔ اس کی غزل کے موضوعات میںوسعت و گہرائی، پختگی، بلند خیالی، تخلیقی انداز، ترنم، استفہامیہ لب و لہجہ، جذباتی کشمکش، معاشرتی اونچ نیچ اور جدت و ندرت جیسے پہلو نمایاں ہیں۔ اس کے لفظ، جذبے، مفاہیم، تراکیب، امیجری اور فکرو شعور نہایت پر کشش ہیں۔" رنگ محبت کے" اس کا تیسرا مجموعہ کلام ہے۔ اس میں غزلیات کے علاوہ سات نظمیں، " گردشِ ایام"، " آغاز"، " تضاد"، " کہانی"، " شاعری"، " ایف بی فرینڈ"، اور " امرینہ" شامل ہیں۔ اپنی پہلے دونوں شعری مجموعوں " روپ کا کندن 2013 " اور " رقص جاری رہے2017 " کی طرح زیر نظر مجموعہ میں بھی اس نے کچھ پنجابی کلام اور ایک سرائیکی قطعہ شامل کیا ہے۔ اس کی اردو نظم فکری، احساساتی اور تاثراتی وسعتوں سے معمور ہے۔ اس نے زندگی اور اس کے امور کا نئے فکری تناظر میں جائزہ لیا ہے۔ اس کی نظم " آغاز" پر ایک سرسری نظر ڈالنے پر ہی معلوم ہو گا کہ اس نے بہت نزاکت سے زندگی اور وقت کے بہاؤ میں لمحہء موجود کی اہمیت کا احاطہ کیا ہے۔اس کا کہنا ہے انسان وقت کے ہر آن رواں کارواں کا مسافر ہے اور دنیا میں ہر منظر لمحاتی ہے۔ آغازِ سفر ہی میں گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار نہیں ہونا کہ ابھی تو گردِ سفر نے چہرے کے خدوخال پر اپنے نقوش چھوڑنے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز نے ہمارے جسموں کے زر کو مصائب کی بھٹی میں کندن بنانا ہے۔
" آغاز"
ابھی تو آغاز ہے سفر کا
ابھی سے گھبرا رہے ہو انورؔ؟
ابھی تو گردِ سفر نے
چہرے پہ رنگ اپنا اُبھارنا ہے
ابھی تو خواہش کی لَو نے
جسموں کے زر کو کندن میں ڈھالنا ہے
انورؔ کی نظموں میں امیجری کا استعمال روایتی شاعری کی مستعمل امیجری سے مختلف ہے۔ اس نے داخلی و خارجی تجربات کو نئے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہجر و وصال کا مسئلہ ہو یا حسن و عشق کا۔ جذبات و احساسات کا معاملہ ہو یا محبت کی معراج پانے کا خیال۔ جدید تہذیب کی روایتی چکا چوند ہو یا الیکٹرانک میڈیا کا حوالا۔ اس نے موضوعات کو متنوع اور دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ اس ضمن میں اس کی نظمیں " ایف بی فرینڈ"، " شاعری"، " تضاد" اور " امرینہ" اہمیت کی حامل ہیں۔ اختصار اور افسانوی ماحول اس کی بیشتر نظموں کا خاصہ ہے۔
" تضاد"
جس کی صورت گلاب جیسی تھی
رنگ پیلا پسند تھا اس کو
تھی مجھے چاکلیٹ کی خواہش
اور ونیلا پسند تھا اس کو
منیر انورؔ کی نظم میں معیاری حسن، طرزِ زیست اور کمال کا اسلوبِ بیان پایا جاتا ہے۔ اس کی نظموں میں جذباتی، تخیلی اور وجدانی شعری انداز اختیار کیا گیا ہے۔ ہم اس کی شاعری میں استعمال ہونے والی تمثالوں کی مدد سے اس کے وسیع مشاہدے اور گہرے تجربات سے روشناس ہو سکتے ہیں۔
ایک قطعہ دیکھیے۔
ہم سے تعبیر ہو نہیں پائے
خواب زنجیر ہو نہیں پائے
یہ محبت کے رنگ ہیں انورؔ
یہ جو تصویر ہو نہیں پائے
لیکن منیر انورؔ نے ان خوابوں کو زنجیر بھی کیا ہے اور مثبت فکری شعور کے بل پر اس میں محبت کے رنگ بھی بھر دیے ہیں۔میں نے اس کتاب کے مسودے کا ایماندارانہ مطالعہ کیا، جو میرا فرض بھی تھا اور مجھ پر قرض بھی، تاکہ " حجت تمام" ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ حرف و آہنگ کے اصولوں اور نقد و فکر کے ترازو میں شاعر کا حسب نسب نہیں بلکہ اس کی فنی قدر و قیمت اور فکری قد و قامت کو جانچا، پرکھا، تولا اور آزمایا جاتا ہے۔مجھے یقین ہے منیر انورؔ کی اس فکری ریاضت کو ضرور سراہا جائے گا۔
سیدہ شاہدہ مبین
(ایم فل اردو)
لیکچرار شعبہ اُردو،
اوپن یونیورسٹی رحیم یار خان کیمپس
_________
حضورِ ربِ کائنات
کمالِ فن کی طلب میں کہاں کہاں دیکھا
ہر اک زمین کو چوما، ہر آسماں دیکھا
مرے رفیق ، مرے محترم ، مرے محرم
وہاں وہاں تجھے پایا ، جہاں جہاں دیکھا
مری زبان کی لکنت کہ کچھ نہ مانگ سکا
ترا کرم کہ تجھے پھر بھی مہرباں دیکھا
مرے خدا ، مرے مالک ، مرے غفور و رحیم
تو مجھ میں ہے ، تجھے میں نے محیطِ جاں دیکھا
مرے خدا یہاں اپنوں کی بادشاہی میں
لجاجتوں کے عوض قہرِ بے اماں دیکھا
نشہ غرور کا اہلِ ستم کی آنکھوں میں
سروں پہ طاقت و دولت کا سائباں دیکھا
تری قسم تری جنت نگاہ دھرتی میں
چراغ چہروں پہ پھیلا ہوا دھواں دیکھا
تو مقتدر ہے خدایا یہ التجا سن لے
کسی کو بھی نہ دکھانا جو ہے یہاں دیکھا
مرے خدا مری سن لے کہ آج تک میں نے
ترے بغیر نہیں کوئی آستاں دیکھا
کمالِ فن کی طلب میں جہاں جہاں دیکھا
ترا جمال خدایا وہاں وہاں دیکھا
_________
نعتِ رسولِ مقبولﷺ
جو چاہتا ہے کہ بچ جائے شر سے دنیا میں
رسولِ پاکؐ کا اسوہ ہی ڈھال ہے اس کی
نبیؐ کی پیروی جس کے لئے مقدم ہے
تو جانیے کہ تجارت حلال ہے اس کی
حضورِ پاکؐسیاست میں جس مقام پہ تھے
حدیبیہ تو فقط اک مثال ہے اس کی
بس انؐ کے ہاتھ میں دے دے جو اپنا ہاتھ کوئی
تو دین و دنیا میں عزت بحال ہے اس کی
جو بغض رکھے خدا کے حبیبؐ سے انور
حیات و موت مسلسل وبال ہے اس کی
_________
کبھی کبھی تو ان کو یوں بھی حوصلہ دیا گیا
کہ ان کے راستے سے آئینہ ہٹا دیا گیا
حضور کی رفو گری میں کچھ کلام تو نہیں
مگر یہ کیا کہ درد اور بھی بڑھا دیا گیا
یہ تیرگی ہمیں کبھی پسند تو نہ تھی مگر
کسی کے احترام میں دیا بجھا دیا گیا
مرا بیان منصفوں کی میز تک گیا مگر
پڑھے سنے بغیر فیصلہ سنا دیا گیا
کسی بڑے کا نام آ گیا تھا اتفاق سے
معاملہ جو زیرِ بحث تھا دبا دیا گیا
مری حیاتِ عشق پہ کتاب چھاپتے ہوئے
جو میرے حق میں اقتباس تھا اُڑا دیا گیا
_________
چاند کچھ بد حواس لگتا ہے
وہ کہیں آس پاس لگتا ہے
تو مرے پیار کی کہانی کا
گم شدہ اقتباس لگتا ہے
تیری آنکھیں اداس ہوں تو مجھے
سارا عالم اداس لگتا ہے
اے مرا ساتھ چاہنے والے
تو ستارہ شناس لگتا ہے
ایک اک شعر تیرے شاعر کا
اک زمانے کی پیاس لگتا ہے
میرا خستہ بدن جواں دل پر
اک پرانا لباس لگتا ہے
میں ہوں اب بھی وہی منیر انور
آئینہ ہی اداس لگتا ہے
_________
بے ضرورت پڑی رہتی ہے ضرورت اس کو
ہو نہ ہو، ہو ہی گئی مجھ سے محبت اس کو
اب تو بچوں کو سلاتے ہوئے رو دیتی ہے
ورنہ ہنسنے کی ہمہ وقت تھی عادت اس کو
جانے کس زعم میں کرتا ہے بچھڑ جانے کی بات
دے نہ دوں میں بھی کسی روز اجازت اس کو
بولتے وقت اسے ہوش کہاں رہتا ہے
لاکھ جتلائی ہے پرکھوں کی نجابت اس کو
وہم انساں کو کہیں کا نہیں رہنے دیتا
کھا گئی اس کے ستاروں کی نحوست اس کو
تلخیاں روح کو زہراب کئے دیتی تھیں
اور پھر بھا گئی مانگے کی حلاوت اس کو
اک تصور کہ محیطِ دل و جاں ہے انورؔ
گل کہوں، رنگ کہوں، روپ کہ فرحت اس کو
_________
یاس لمحوں میں ترا عہدِ وفا یاد آیا
ٹمٹماتا ہوا مٹی کا دیا یاد آیا
تیرے الفاظ میں تلخی کی چبھن یاد رہی
تیرے لہجے میں چُھپا قہرِ بلا یاد آیا
چاہتے تھے کہ اسے اپنا بنا لیتے مگر
جبر کے سائے وہ پھیلے کہ خدا یاد آیا
اس کے انداز کی خوبی تھی کہ اک عمر کے بعد
اس کے جذبوں میں صداقت کا خلا یاد آیا
بُجھ گئے کتنے دیئے یاد نہیں ہے لیکن
دیر تک چلتی رہی تیز ہوا یاد آیا
_________
گلی گلی ہیں بھیڑیے محافظوں کے روپ میں
کثافتوں کا راج ہے نفاستوں کے روپ میں
ہم اہل شوق زخم چاٹتے رواں دواں رہے
سڑک پہ خار تھے سجے ہوئے گلوں کے روپ میں
حضور وقت مل سکے تو ایک بار دیکھ لیں
یہ سائلوں کے مسئلے ہیں فائلوں کے روپ میں
کہا گیا تھا منزلِ مراد پائیں گے مگر
ہمیں جو راہزن ملے ہیں رہبروں کے روپ میں
اب اپنے خون پربھی اعتماد کچھ محال ہے
سفیدیاں چھپی ہوئی ہیں سرخیوں کے روپ میں
بڑے قلم فروش لوگ تھے جنہوں نے آخرش
ہمیں تباہ کر دیا ہے عالموں کے روپ میں
ابھی سے کیوں گمانِ ترکِ عاشقی ہوا تمہیں
ابھی تو ناچتا ہے خون، دھڑکنوں کے روپ میں
_________
اپنے اندر دھیان لگائے بیٹھا ہوں
آوازوں پر کان لگائے بیٹھا ہوں
آئینے میں اپنا عکس ہے میں جس پر
کتنے سرخ نشان لگائے بیٹھا ہوں
دیکھ مرے دشمن، کچھ بھی ہو سکتا ہے
اس بازی پر جان لگائے بیٹھا ہوں
لفظ بھی کاروبار ہیں ایک حوالے سے
میں بھی ایک دکان لگائے بیٹھا ہوں
دنیا کھیل تماشا ہے اور میں انور
داؤ پر ایمان لگائے بیٹھا ہوں
_________
ہم زباں، ہم نفس، ہم قدم
راستے، دوریاں، زیر و بم
کوئی احسان جتلایئے
کیجیے اور کوئی کرم
اپنی اپنی ڈگر پر رواں
یہ جہاں، آپ، وہ اور ہم
سب محبت کے ادوار ہیں
مسکراہٹ، ہنسی، چشمِ نم
ہے بہت مختصر داستاں
بک گئے میرے اہلِ قلم
لفظ ہم پہ بھی ہیں مہرباں
سوچ کر بولیے محترم
ہار جائیں بھی انور تو کیا
کھیلنا چاہیے کم سے کم
_________
جب کسی دل کا حال جھانکتا ہے
شعر سے تب کمال جھانکتا ہے
میرے اشعار کے جھروکوں سے
اس کا حسن و جمال جھانکتا ہے
اِس تکلف سے اُس مروت کا
ایک اک ماہ و سال جھانکتا ہے
میری غزلوں کا معجزہ دیکھا!
ہجر سے بھی وصال جھانکتا ہے
ظاہری سادگی کے پردے سے
تیرا مال و منال جھانکتا ہے
فیصلے لکھ دیے گئے لیکن
فیصلوں سے سوال جھانکتا ہے
بھوک اپنی جگہ مگر انورؔ
پسِ خوراک جال جھانکتا ہے
_________
آگ جو بھڑکی ہے، اپنوں کی لگائی ہوئی ہے
یہ تباہی میرے کرموں ہی کی لائی ہوئی ہے
ہم وہ سادہ ہیں کہ اب تک نہیں سمجھے اس کو
جس نے ہر چال میں اک چال چھپائی ہوئی ہے
جو بچی ہے اسے تُو بیچ کے کھانا چاہے
آدھی چادر تو ترے پُرکھوں نے کھائی ہوئی ہے
تیرا ہر خواب اسی آگ میں جل جائے گا
تو نے جو آگ مرے گھر کو لگائی ہوئی ہے
کرب ہے اور دل و جان کو آیا ہوا کرب
اک اداسی ہے کہ ماحول پہ چھائی ہوئی ہے
میرے دامن میں امیدوں کے ہیں خوشے انورؔ
اور ان پر بھی نظر اس نے لگائی ہوئی ہے
_________
وعدئہ صدق و صفا تک نہ کیا
تم نے آغازِ وفا تک نہ کیا
اس کو پانے کی تمنا تھی مگر
میں نے ہاتھوں کو دعا تک نہ کیا
ساتھ چلنا تھی بڑی بات اس نے
میرے ہم راہ دِیا تک نہ کیا
چھوڑ جانا کہاں ممکن ، ہم نے
ہاتھ سے ہاتھ جدا تک نہ کیا
عادتاً چھوڑ دیا اس نے مجھے
فطرتاً میں نے گلہ تک نہ کیا
_________
کسی کی آنکھیں کسی کے رخسار جل اٹھیں گے
اب اس کہانی کے سارے کردار جل اٹھیں گے
اگر اندھیروں سے جنگ ٹھہری تو دیکھ لینا
بجھے ہوئے لوگ مرحلہ وار جل اٹھیں گے
وہ لفظ جو ہم جلا رہے ہیں، انہی کی لو سے
اندھیر نگری کے اندھے معیار جل اٹھیں گے
خدا کے بندو! یقین رکھو کہ تم اٹھے تو
یہ خانقاہیں، یہ سارے دربار جل اٹھیں گے
سنو تذبذب کی کیفیت سے نکل کے دیکھو
یہ بیڑیاں ٹوٹ جائیں گی، دار جل اٹھیں گے
ہم اپنے حصے کے رہن رکھوا کے سارے جگنو
یہ سوچتے ہیں ہمارے کہسار جل اٹھیں گے
تم اپنے بجھتے چراغ دیکھو، ہماری چھوڑو
ہمیں پتا ہے کہ ہم پھر اک بار جل اٹھیں گے
ہمیں محبت کے آئینے میں رکھا گیا تو
تمام صحرا، سبھی چمن زار جل اٹھیں گے
ہمارے بارے میں رائے چھاپی گئی ہے انورؔ
سو اب یہ طے ہے کہ سارے اخبار جل اٹھیں گے
_________
اس نے جب بات کی اداسی کی
گرد جھڑنے لگی اداسی کی
اب تو یاروں کی انجمن میں ہوں
اب کہاں رُت رہی اداسی کی
تیری آنکھوں کا ذکر بھی آیا
گفتگو جب چلی اداسی کی
شہر بھر میں کہانیاں پھیلیں
تیری بھیدوں بھری اداسی کی
تم سے فرصت میں گفتگو ہو گی
عزتِ نفس کی، اداسی کی
اے مرا حال پوچھنے والے
سن صدا گونجتی اداسی کی
اُٹھ مرے ساتھ رقص کر انورؔ
ایسی تیسی تری اداسی کی
_________
بغض دلوں میں بھرتے ہو، کچھ سوچو تو
ہر خواہش پر مرتے ہو کچھ سوچو تو
اپنے گھر پر، اپنے لوگوں پر لوگو
کیا کیا تہمت دھرتے ہو ،کچھ سوچو تو
جس تھالی میں کھاتے عمر گذاری ہے
چھید اسی میں کرتے ہو، کچھ سوچو تو
ناداروں کا حق کھانے والے لوگو
آگ سے دامن بھرتے ہو، کچھ سوچو تو
اللہ پر ایماں رکھنے والو آخر
کیوں طاغوت سے ڈرتے ہو؟کچھ سوچو تو
_________
یہ کیا کہ اپنا بھرم خاک میں ملا دینا
کسی غلط کو غلط سے جواز کیا دینا
گلاب پیش نہ کر پاؤ تو یہ کافی ہے
کسی کی راہ سے کانٹا کوئی ہٹا دینا
سنو یہ راستہ اہلِ نظر کا رستہ ہے
یہاں ضروری ہے گرتوں کو آسرا دینا
نئے سفر میں پرانی رفاقتیں یارو
کسی طرح بھی مناسب نہیں بھلا دینا
یہ ہم نے سیکھا ہے تاریکیوں سے لڑتے ہوئے
کہ اک چراغ بجھے، دوسرا جلا دینا
اب اپنا کام یہی ہے کہ صبح کی دھن میں
تمام رات ستاروں کو حوصلہ دینا
میں تیرے لمس کی فرحت سے آشنا ہوں مگر
ہوائے شام چراغوں کو مت بجھا دینا
وہ اس کا پوچھنا، کیسے ہیں آپ انورؔ جی
وہ بے بسی سے مرا صرف مسکرا دینا
_________
میں اپنے ہونے کا اپنی وسعت کی حد میں تاوان بھر چکا ہوں
کبھی کبھی تو مجھے لگا ہے کہ جیسے اندر سے مر چکا ہوں
مجھے یہ لگتا ہے داستاں اب زیادہ دن تک نہیں چلے گی
کہ میں تحمل کی، ضبط کی ،آخری حدیں پار کر چکا ہوں
مرے عناصر کا انتشار اب کسی کے بس کا نہیں رہا ہے
میں اپنے ریزے سمیٹ لینے کی دھن میں یکسر بکھر چکا ہوں
تم اپنا سورج سنبھال رکھو مجھے اب اس سے غرض نہیں ہے
کہ میں رویوں کی سرد آغوش میں مکمل ٹھٹھر چکا ہوں
شجر اگانے کی عین ممکن ہے اور وجہیں بھی ہوں عزیزو
یہ بات بھی ہے کہ میں محبت کے تجربے سے گزر چکا ہوں
مرے خیالوں کی پختگی، حادثے کا حاصل نہیں ہے انورؔ
کسی ہنر وَر کے ہاتھ سے بار بار بن کے سنور چکا ہوں
_________
ہمارے خدشات کے درُوں سے مہیب سائے نکل رہے ہیں
تمہارے وعدوں کے چاند لیکن چمک رہے ہیں نہ ڈھل رہے ہیں
عجیب تاریک روشنی ہے جو سارے منظر کو کھا رہی ہے
غلام ذہنوں کی ضد ہے لیکن کہ درد کے دن بدل رہے ہیں
بساطِ شاہی پہ ان پیادوں کی حیثیت ہی نہیں ہے کوئی
یہ جو بہت تلملا رہے ہیں، جو قد سے بڑھ کے اچھل رہے ہیں
وہ جن کے ہاتھوں ہماری دستار تک سلامت نہیں رہی ہے
ستم تو یہ ہے انہی کی انگلی پکڑ کے ہم لوگ چل رہے ہیں
تمہارے میرے تمام آنسو جو وقت کی دھول پر گرے تھے
ہمارے بچوں تک آن پہنچے ہیں، ان کی آنکھوں میں جل رہے ہیں
ہماری آنکھیں پہاڑ کے دوسری طرف دیکھتی ہیں انورؔ
ہمارے دیرینہ خواب تعبیر دیکھنے کو مچل رہے ہیں
_________
اس نے بخشے ہیں گرد باد ہمیں
اور کرنا پڑا ہے صاد ہمیں
برف جیسا بنا گیا یارو
اک تعلق کا انجماد ہمیں
بھول جانے پہ معذرت کیسی
تو نے رکھا ہی کب تھا یاد ہمیں
اس برس بھی اناج سستا بکا
اور مہنگی ملی ہے کھاد ہمیں
زندگی کی نوید دیتا ہے
لہلہاتا ہوا کماد ہمیں
مار ڈالے نہ ایک دن انورؔ
اس پہ یکطرفہ اعتماد ہمیں
_________
ترے خیال میں حد سے گذر گیا کوئی
غمِ حیات کو حیران کر گیا کوئی
ہوائیں جن کے اشاروں پہ رقص کرتی ہیں
چراغ وہ میرے رستے پہ دھر گیا کوئی
مجھے پتہ بھی نہیں چل سکا مگر مجھ میں
تمام رنگ محبت کے بھر گیا کوئی
میں شعر کہتا رہا جس کی یاد میں اب تک
کل اس کے جیسا غزل میں اتر گیا کوئی
لبوں تک آیا ہوا قہقہہ نہ روک سکا
پھر اس کی گونج سنی اور ڈر گیا کوئی
میں خواب بنتا رہا زندگی کے اور کہیں
فریبِ زیست سے گھبرا کے مر گیا کوئی
میں سوچتا ہوں کہ اس کا لکھا دکھاؤں اسے
کہے سنے سے تو یکسر مکر گیا کوئی
بس اک ذرا سی توجہ کی بات تھی انورؔ
نظر نظر سے ملی اور سنور گیا کوئی
_________
جان باقی نہیں ہے جان میں کیا
خوف آنے لگا اڑان میں کیا
فاصلے ختم ہی نہیں ہوتے
اب بھی ہے کوئی درمیان میں کیا
تیر آیا ہے لڑکھڑاتا ہوا
کوئی اپنا ہی تھا مچان میں کیا
مجھ سے برگشتہ ہو رہے ہو تم
سحر پھونکا کسی نے کان میں کیا
پھول کھلنے لگے ہیں بے موسم
تم چلے آئے میرے لان میں کیا
آدمیت ہے محترم انورؔ
ورنہ مرزا میں کیا ہے خان میں کیا
_________
ہر سینے میں اک صحرا آباد رہے
کیا لازم ہے ہر لب پر فریاد رہے
ایسے ڈھنگ سے لکھیے جو بھی لکھنا ہو
لفظ کا دامن معنی سے آباد رہے
اس کے اک اک لفظ میں میری دھڑکن ہے
تیرے ہاتھ کتاب نہیں ہے یاد رہے
رنگ محبت کے تصویر نہ ہو پائے
کوشش کرتے مانی اور بہزاد رہے
سارے لوگ محبت کرنے والے ہوں
کوچہ کوچہ نفرت سے آزاد رہے
خوشیاں ناچیں پاکستان کی گلیوں میں
بستی بستی، آنگن آنگن شاد رہے
_________
خوشبو نے انجام دیا ہے کام مرا
آخر جا پہنچا اس تک پیغام مرا
ایک یہی تو سچی خبریں دیتا ہے
دل کیسے ہو سکتا ہے ناکام مرا
وہ تو صبح کی آس دلائی تاروں نے
ورنہ اور ارادہ تھا اس شام مرا
جب جب مجھ پر بغض کا سایہ پڑتا ہے
میلا ہونے لگتا ہے احرام مرا
تیرے جلوے کیسے قید ہوں شعروں میں
لفظ ادھورے، اور تصور خام مرا
تم احساس کی دولت لے کر ساتھ رہو
بھرتے بھرتے بھر جائے گا جام مرا
اس کے دل میں چور یقیناً تھا انورؔ
جھجکا وہ محفل میں لیتے نام مرا
_________
دو قدم میں کٹ جائیں راستے محبت کے
آ ملیں اگر ہم سے قافلے محبت کے
جسم و جان تک یارو یہ سفر نہیں رکتا
روح پر گذرتے ہیں سانحے محبت کے
آپ سے ہمارے کچھ من پسند رشتے ہیں
دوستی کے، چاہت کے، پیار کے، محبت کے
زاویے عداوت کے ختم کر دیے جائیں
آئیے بناتے ہیں دائرے محبت کے
کائنات کا مرکز ہے یہی حسیں جذبہ
ہیں ازل سے تابندہ سلسلے محبت کے
کیا غضب ہے اب وہ بھی ہم سفر نہیں اپنا
جس کی اک صدا پر ہم ہو گئے محبت کے
اس مقام پر انور احتیاط لازم ہے
انتہائی نازک ہیں آئینے محبت کے
_________
گوری رنگت والے دل کے کالے ہیں
اکثر روپ ہمارے دیکھے بھالے ہیں
شاید میں ہی دیر سے واپس آیا ہوں
کھڑکی بند ہے دروازوں پر تالے ہیں
جانے کس مکڑی کا سایہ ہے مجھ پر
دل پر اک مدت سے پھیلے جالے ہیں
اپنے لوگوں کا سودا کر سکتے ہیں
یہ حضرت جو لگتے بھولے بھالے ہیں
ان بے ساختہ ہنسنے والے لوگوں نے
دل میں جانے کیسے درد سنبھالے ہیں
ہم ہنستے ہیں وہ رونے لگ جاتے ہیں
ہم نے کچھ احباب نرالے پالے ہیں
_________
کچھ آپ کا لحاظ کچھ اپنا خیال ہے
ایسا نہیں کہ تلخ نوائی محال ہے
ہم اب بھی چاہتے ہیں مسائل کا حل مگر
اس کی طرف سے اب بھی وہی قیل و قال ہے
کچھ اور ہے تقاضا مہ و سال کا مگر
باسی کڑھی میں اور طرح کا ابال ہے
یہ لوگ جس کی سادہ دلی پر نثار ہیں
حاصل اسے بھی دھوکا دہی میں کمال ہے
بولے تو پھیلتا ہے تعفن فضاؤں میں
وہ شخص دیکھنے میں بڑا خوش خصال ہے
جس پر فریفتہ ہیں مرے خوش گمان دوست
انورؔ وہ ہنس کی نہیں، کوے کی چال ہے
٭٭٭
پیار ہے شاعری، دوستی شاعری
غور کیجے تو ہے زندگی شاعری
جذبِ دل، کانپتے ہونٹ بھی شاعری
ان کہی شاعری، اور کہی شاعری
پھوٹتی کونپلیں مصرعہء تربتر
اور کلی کی چٹکتی ہنسی شاعری
شاعری ہی تو ہے بحرِ پُرشور بھی
چشمہء آب کی تازگی شاعری
ٹھیک ہے کھیلتے ہیں ذرا دیر کو
آپ کے ساتھ ہم، شاعری شاعری
ایک مختار کا جبر بھی شعر ہے
اور مجبور کی بے کسی شاعری
خاک ہوتے ہوئے جسم اک بحر ہیں
رخ پہ چھائی ہوئی مردنی شاعری
شاعری ہے ٹھٹھرتی ہوئی مائیں بھی
بھوک بچے نگلتی ہوئی شاعری
دوڑتے بھاگتے لوگ بھی نظم ہیں
منجمد آنکھ کی بے بسی شاعری
کھا گئی زندہ رہنے کی خواہش ہمیں
در بدر خوار ہوتی رہی شاعری
یہ جہاں، وہ جہاں، ہست بھی، بود بھی
زندگی، موت، برزخ، سبھی شاعری
آپ نے کہہ دیا ہے مگر سوچیے
شاعری ہے بھلا کیا نری شاعری؟
_________
تیرے اس شہرِ عداوت میں بکھرنے والے
ہم نہیں عہدِ محبت سے مکرنے والے
اب تو وہ دید کی خواہش بھی نہیں ہے باقی
اے مرے بامِ تکبر سے اترنے والے
ٹوٹ جانے سے کہیں اچھا ہے پتھر ہونا
پاؤں احساس کی دہلیز پہ دھرنے والے
جانے کب ذات کے گنبد سے نکل پائیں گے
یہ مرے اپنی ہی آواز سے ڈرنے والے
تم بضد ہو تمہیں معلوم نہیں ہے شاید
ڈوب سکتے ہیں سمندر میں اترنے والے
ہم نے چاہا ہی نہیں یاد دلانا ورنہ
کتنے افسانے تھے ذہنوں میں ابھرنے والے
میرے ہر تارِ نفَس نے تجھے محسوس کیا
دل کی بستی سے دبے پاؤں گذرنے والے
_________
جنگل میں تیری یاد سے منگل کیا گیا
کرنے کا کام تھا سو مسلسل کیا گیا
کتنے ہی رتجگوں سے گذارا گیا ہمیں
پھر جا کے ایک خواب مکمل کیا گیا
پہلے ہمیں دیا گیا منزل کا ذوق و شوق
اور پھر تمام راستہ دلدل کیا گیا
تعمیر سونپ کر ہمیں شہرِ خیال کی
نقشہ ہماری آنکھ سے اوجھل کیا گیا
کیا فائدہ معافی تلافی کا، آپ نے
کرنا تو پھر وہی ہے کہ جو کل کیا گیا
انورؔ ہمیں بھی امن کی خواہش تو تھی مگر
گھائل ہمارے دیس کو ہر پل کیا گیا
_________
فَقر کا اپنا مزہ ہے مسکراتے ظالمو
مادیت کے ساز پر ٹھمکے لگاتے ظالمو
کلغیوں، شملوں کے نیچے آدمی بھی ہے کوئی؟
کلغیوں، شملوں کے پیچھے سر کٹاتے ظالمو
یہ محبت کی غزل ہے، لازمی ہے احتیاط
ساتواں سُر، آٹھویں سُر میں ملاتے ظالمو
زندگی کا مسئلہ اس کھیل سے آگے کا ہے
آتی جاتی لڑکیوں پر بھنبھناتے ظالمو
پیش آ جاتی ہیں کچھ مجبوریاں اس راہ میں
دوستی پر، پیار پر انگلی اٹھاتے ظالمو
_________
پھانکتے خاک چلے آئے ہیں بازاروں سے
کچھ نہیں چاہیے بستی کے دکاں داروں سے
اب تو بچوں کے پٹاخوں سے بھی ڈر جاتے ہیں
کھیلنے والے دہکتے ہوئے انگاروں سے
آپ کے شہر میں کیا بیت گئی ہے ان پر
پوچھیے خون میں لتھڑے ہوئے غم خواروں سے
گالیاں دیتے ہوئے شیخ نے ارشاد کیا
ہم تعلق ہی نہیں رکھتے گنہ گاروں سے
پھر وہی طعن، وہی تلخ نوائی ہو گی
اور کیا پائیں گے خود ساختہ دلداروں سے
شرم آتی ہے اگر اہل قلم بھی چاہیں
اپنی تصدیق، کلیساؤں سے، درباروں سے
کتنے سادہ ہیں مرے لوگ کہ اب تک انورؔ
خیر کی رکھتے ہیں امید ستم گاروں سے
_________
میرے لہجے میں تلخی تھی یوں بھی ہے
اس کے دل میں آگ بھری تھی یوں بھی ہے
کچھ تو وہ بھی تیز مزاج کا تھا لیکن
ہم نے دکھتی رگ پکڑی تھی یوں بھی ہے
یوں تو اس کی داڑھی میں تنکا بھی تھا
آئینے کی بات چلی تھی، یوں بھی ہے
موسم کی تندی سے بھی انکار نہیں
پھول کی عمر تمام ہوئی تھی، یوں بھی ہے
رستے کی بھی دھول تھی آنکھوں میں انورؔ
ہجر کی ساعت آ پہنچی تھی یوں بھی ہے
_________
اسے بھلانا تو ایسا کہاں ضروری ہے
جہاں میں ہوں، مرا ہونا وہاں ضروری ہے
اب ایسے موڑ پہ افسانہ آ گیا ہے جہاں
مرا خیال ہے میرا بیاں ضروری ہے
دعا ضرور سنی جائے گی یقین رکھو
بس ایک نکتے پہ ہوں جسم وجاں، ضروری ہے
اب ان اجڑتے ہوئے بام و در سے آگے نکل
فسانہ ساز نئی داستاں ضروری ہے
حسد بڑھاتا ہے پیہم رفاقتوں کا مزا
کوئی رقیب رہے درمیاں ضروری ہے
ضرور سوچ کہ کیسے بکھر گیا لیکن
مرے عزیز! نیا آشیاں ضروری ہے
نئے شگوفوں کو رستہ تو چاہیے انورؔ
بہار بھی ہے ضروری، خزاں ضروری ہے
_________
دستک دے کر چھپ جاتے ہو
اندر سے اب تک بچے ہو
اپنے آپ سے لڑتے لڑتے
اپنا آپ گنوا بیٹھے ہو
تمہیں بھلانا مشکل ہو گا
میرا اچھا وقت رہے ہو
میں یہ لمحہ قید رکھوں گا
تم میرے دکھ پر تڑپے ہو
مَیں کا زعم اور عشق کی بازی؟
کیا کرتے ہو، کیاکرتے ہو
چھوڑو دور دراز کی باتیں
میں اچھا ہوں، تم کیسے ہو
کل کیا ہو گا کل دیکھیں گے
اِس لمحے تک تم میرے ہو
اُن ہونٹوں نے سرگوشی کی
انورؔ! تم کتنے اچھے ہو
_________
خانہء دل کو یوں سجاتے ہیں
ہم وہاں نقشِ گل بناتے ہیں
سن کے ان کی ہنسی چٹکتی ہوئی
جھینپ کر پھول مسکراتے ہیں
ان ستارہ مثال آنکھوں سے
دل کے شب زار جگمگاتے ہیں
خوشبوئیں ہم رکاب ہوتی ہیں
وہ جہاں بھی، جدھر بھی جاتے ہیں
ان فسانہ طراز لوگوں پر
آئیے قہقہہ لگاتے ہیں
یہ مرا گھر ہے ذہن میں رکھیے
آپ جس کی ہنسی اڑاتے ہیں
ان کے ہونٹوں سے چھو کے شعر انورؔ
شاعری کا مقام پاتے ہیں
_________
جب حسنِ بے ثبات کی جھولی میں جا گرا
پھر عشق حادثات کی جھولی میں جا گرا
اس کا بھی ہر قدم تھا اسیرِ جہانِ رنگ
اور میں بھی خواہشات کی جھولی میں جا گرا
میں نے کہا کہ پیار ہے انسان سے مجھے
لیکن وہ ذات پات کی جھولی میں جا گرا
پہلے تو وہ رکا تھا سرِ راہِ اشتیاق
پھر میں بھی حادثات کی جھولی میں جا گرا
اس سے کہا تھا شعر کہو ڈھنگ کا کوئی
وہ دھم سے فاعلات کی جھولی میں جا گرا
انورؔ اسی کا سارا فسوں ہے جہان میں
ذرہ جو کائنات کی جھولی میں جا گرا
_________
ظلم پر خاموش رہتی بستیاں کیسی لگیں
فیصلے کے وقت آتی پرچیاں کیسی لگیں
بات کچھ ایسی انوکھی تو نہیں لیکن بتا
حضرتِ واعظ کے منہ سے گالیاں کیسی لگیں
سوچتا ہوں ناچتے بندر سے پوچھوں گا کبھی
وہ اشاروں پر نچاتی انگلیاں کیسی لگیں
حبس میں گھٹتی ہوئی سانسیں بتا کیسی رہیں
آندھیوں میں دھڑدھڑاتی کھڑکیاں کیسی لگیں
درد سینے میں دبا کر ناچنا کیسا رہا
آنسوؤں میں بھیگتی سرمستیاں کیسی لگیں
ہم نے اپنے طور سے حرفِ شکایت لکھ دیا
ان کی وہ جانیں انہیں گستاخیاں کیسی لگیں
_________
پھر ماحول میں خوشیاں جاگیں، آس اُگے
جب دل میں پھولوں جیسا احساس اُگے
اس کا نقش مرے دل پر ایسے ابھرا
جیسے سوکھے تالابوں میں گھاس اُگے
پھول اور کانٹے یکساں لگنے لگتے ہیں
ہونٹوں پر جب صحراؤں کی پیاس اُگے
اکثر آنکھیں نوچ کے پھینک دی جاتی ہیں
جب جب ان میں اچھے خواب کی آس اُگے
ہم ان سے کیسے شکوہ کر سکتے ہیں
ہم وہ پھول ہیں جو کانٹوں کے پاس اُگے
ہم امید کی فصلیں بوتے ہیں انورؔ
اور وہ کوشاں ہے دھرتی پر یاس اُگے
_________
وہ تو کہتا ہے عارضی سمجھوں
میں محبت کو دائمی سمجھوں
یہ رویہ کچھ اور ہی ہے جسے
تو بضد ہے کہ دوستی سمجھوں
حکم تو ہے یہی، مگر کیسے
ظلمتِ شب کو روشنی سمجھوں
میرے کچھ دوستوں کی خواہش ہے
ہر سخن ساز کو ولی سمجھوں
گربہء وقت مقتضی ہے کہ میں
چالبازی کو سادگی سمجھوں
اک عروضی، عروض کے فن کو
چاہتا ہے کہ شاعری سمجھوں
لازمی تو نہیں منیر انورؔ
جو زمانہ کہے وہی سمجھوں
_________
وہ جب ان آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تھا
شہر انسانوں کا جنگل ہو گیا تھا
لمس تھا کوئی کہ جادو کی چھڑی تھی
میں اسی لمحے مکمل ہو گیا تھا
میں نے دیکھا ہے محبت کا کمال
دھوپ جیسا شخص، بادل ہو گیا تھا
اس کے لفظوں سے مہک آنے لگی تھی
اور سب ماحول صندل ہو گیا تھا
ایک نقطے پر سمٹ آئے تھے دونوں
آئینے کا مسئلہ حل ہو گیا تھا
اکتشافِ ذات کا لمحہ تھا انورؔ
اور میرا ذہن ہی شَل ہو گیا تھا
_________
منافقین کو اپنا بنا نہیں سکتے
ہم اپنی مٹی پہ تہمت لگا نہیں سکتے
یہ دیس پرکھوں کی دستار ہے اور اس کے لئے
ہم اپنے فرض سے پہلو بچا نہیں سکتے
ہم اپنے دکھ پہ لگاتے ہیں قہقہے لیکن
کسی کے درد پہ ہم مسکرا نہیں سکتے
تمہارا ظرف تمہارے لئے ہے لیکن ہم
تمہاری راہ میں کانٹے بچھا نہیں سکتے
مرے عزیز تری بات اور ہے ورنہ
ہم ایسوں ویسوں کا احساں اٹھا نہیں سکتے
عداوتیں ہمیں کم کم ہی یاد رہتی ہیں
کسی کا پیار مگر ہم بھلا نہیں سکتے
_________
اقتضائے شباب اپنی جگہ
فاصلوں کا عذاب اپنی جگہ
یوں تو میرا سوال بھی ہے اہم
لیکن اس کا جواب اپنی جگہ
ڈگریوں کا مقام اپنا ہے
زندگی کا نصاب اپنی جگہ
ہم عمل بھی نظر میں رکھتے ہیں
تیرا دلکش خطاب اپنی جگہ
اپنی اپنی جگہ سب اچھے ہیں
اور سب ہیں خراب اپنی جگہ
درد کتنا، کہاں کہاں اٹھا
درد کا سدّ باب اپنی جگہ
اپنی مٹی سے رابطہ رکھنا
آسمانوں کے خواب اپنی جگہ
اور بھی لوگ دل میں ہیں لیکن
آپ کی ہے جناب اپنی جگہ
اس نے تسلیم کر لیا ہے مجھے
اضطراب و حجاب اپنی جگہ
بس تعلق کی خیر ہو انورؔ
یہ حساب و کتاب اپنی جگہ
_________
چل کوئی اہتمام کرتے ہیں
پتھروں سے کلام کرتے ہیں
ہم محبت تمام کر بیٹھے
آؤ حجت تمام کرتے ہیں
اپنے تیورسنبھالیے صاحب
یوں، بھلا یوں سلام کرتے ہیں
آپ بھڑکائیں آگ کے شعلے
ہم بجھانے کا کام کرتے ہیں
آئیں گھر کے چراغ کی خاطر
آندھیوں کو غلام کرتے ہیں
اس خموشی سے بدگمان نہ ہو
ہم ترا احترام کرتے ہیں
یہ ترے خواب دیکھنے والے
پوچھ مت کیسے شام کرتے ہیں
شام کے منتظر دئیے ہم سے
جانے کیا کیا کلام کرتے ہیں
روح کی شاہراہ پر انورؔ
ہم بدن کو امام کرتے ہیں
_________
میری تحریر پھاڑ دی اس نے
میخ سینے میں گاڑ دی اس نے
میں نے پوچھا کہ وقت بدلے گا؟
اور تقریر جھاڑ دی اس نے
گفتگو کیا تھی، اک قیامت تھی
میری دنیا اجاڑ دی اس نے
صبر کرتا تو بن بھی سکتی تھی
بات یکسر بگاڑ دی اس نے
دل میں اک بیل تھی محبت کی
آج وہ بھی اُکھاڑ دی اس نے
اک تخیل کا شہر تھا انورؔ
جس کی صورت بگاڑ دی اس نے
_________
اب ہے ہارنے والا
سب کو تاکنے والا
مسکرا نہیں سکتا
رنج پالنے والا
کیا نظر ملائے گا
بھیک مانگنے والا
جل نہ جائے جلتی پر
تیل ڈالنے والا
کھڑکیاں سوالی ہیں
کوئی جھانکنے والا؟
خود پہ ظلم کرتا ہے
حد کو پھاندنے والا
سو گیا اگر تھک کر؟
تیرا جاگنے والا
خال خال ملتا ہے
مجھ سا چاہنے والا
میں ترے لئے در در
خاک چھاننے والا
اک وہی تو ہے انورؔ
سب کا پالنے والا
_________
سویا ہوا تھا، آ کے جگانے لگے مجھے
میں روح تھا وہ جسم بنانے لگے مجھے
ان کی نظر نے دل میں جلائی تھی جو کبھی
اس آگ کو بجھاتے زمانے لگے مجھے
اور یوں ہوا جب ان کی تمنا نہیں رہی
وہ میرے خواب پھر سے دکھانے لگے مجھے
آخر مری خطائیں مرے کام آ گئیں
آخر وہ آئے، آ کے منانے لگے مجھے
پھر میرے خواب اوج ثریا کو پا گئے
ان کی جب آنکھ میں نظر آنے لگے مجھے
یونہی کسی خیال میں کھویا ہوا تھا میں
اور وہ زمانے بھر کی سنانے لگے مجھے
میں ان کو دشمنوں کی خبر دے رہا تھا جب
سیڑھی سے کھینچ کر وہ گرانے لگے مجھے
انورؔ بھنور میں ان کا سہارا بنا تھا میں
کاغذ کی ناؤ پر جو بہانے لگے مجھے
_________
بنا سوچے مقابل آ رہا تھا
وہ اپنی مَیں سے دھوکا کھا رہا تھا
کہا تھا بات کر لیتے ہیں بیٹھو
مگر وہ سر پہ چڑھتا جا رہا تھا
اسے تھا زعم اپنی برتری کا
وہ طاقت سے ہمیں دھمکا رہا تھا
نہ تھا جی دار وہ اتنا بھی لیکن
کوئی تھا، جو اسے بہکا رہا تھا
ضروری ہو گیا تھا روک دینا
وہ اپنی حد سے بڑھتا جا رہا تھا
ہماری امن کی خواہش کو ظالم
ہماری بزدلی ٹھہرا رہا تھا
دھکیلا ہے اسے واپس کنویں میں
مسلسل ٹرٹرائے جا رہا تھا
_________
ایک جوہر ہے مست حالوں میں
خوف ہوتا نہیں خیالوں میں
ہائے وہ زندگی نواز آنکھیں
کھو گئیں جانے کن سوالوں میں
زندگی بے حسی پہ روتی ہے
موت ہنستی ہے ہسپتالوں میں
روشنی کی تلاش بے معنی
ان سیاہی زدہ اجالوں میں
آپ سے کیا کہیں کہ آپ پڑھے
نرگسیت کے پاٹھ شالوں میں
ہم نے دو ٹوک بات کی انورؔ
لوگ الجھے رہے مثالوں میں
_________
مری تو اس سے فقط عارضی رفاقت تھی
مجھے پتہ تھا اسے اور سے محبت تھی
اسے کسی کا دیا غم سنبھالنا تھا نا
سو ایسے وقت میں میری اسے ضرورت تھی
مجھے لگا، ہے محبت میں مبتلا وہ بھی
کل اس کے لہجے میں کچھ اور ہی حلاوت تھی
تری زبان سے نکلے جو لفظ، میرے تھے
مرے وجود میں شامل تری لطافت تھی
مثال کوئی محبت کی دی نہیں میں نے
وہ سامنے تھا تو ایسی کہاں ضرورت تھی
میں آج تک یہ سمجھتا رہا کہ مجھ سے اسے
ہے اختلاف، مگر اب کُھلا عداوت تھی
میں پوری بات کبھی کہہ نہیں سکا انورؔ
کہ آدھی سن کے، اسے کاٹنے کی عادت تھی
_________
اپنی ساری اٹھان بھول گئی
جب زمیں، آسمان بھول گئی
دھوپ اس کا نصیب ٹھہرے گی
خلق جب سائبان بھول گئی
گل نے دیکھا تھا مڑ کے ایک نظر
اور تتلی اڑان بھول گئی
تیرگی سے گلہ نہیں بنتا
روشنی ہی مکان بھول گئی
دوست بھی دشمنوں میں تھا سو ہمیں
تیر بھولے، کمان بھول گئی
پیار تو زندگی ہے اور ہمیں
پیار ہی کی زبان بھول گئی
_________
اک محبت شناس ہے تو سہی
وہ مرے آس پاس ہے تو سہی
اس کا لکھا ہوا بتاتا ہے
کچھ نہ کچھ وہ اداس ہے تو سہی
آڑے آتی ہے میری خود داری
ورنہ ہونٹوں پہ پیاس ہے تو سہی
کچھ تو مایوس ہم بھی ہیں لیکن
اچھے وقتوں کی آس ہے تو سہی
عام سا آدمی سہی انورؔ
اس میں کچھ بات خاص ہے تو سہی
_________
اس کے ہاں کیا وہ معتبر ہو گا
وہ، جو اندر سے دربدر ہو گا
آئینہ کیسے ٹوٹ سکتا ہے
بوجھ سارا تو عکس پر ہو گا
کوئی تو میرا کرب سمجھے گا
کوئی تو صاحبِ نظر ہو گا
آپ سے اک سوال بنتا ہے
کب مرا خواب باروَر ہو گا
آئیے انتظار کرتے ہیں
کون، کب، کتنا معتبر ہو گا
راستوں پر کڑی نظر رکھنا
خیر کے ساتھ ساتھ شر ہو گا
منزلِ شوق کچھ نہیں انورؔ
اک سفر حاصلِ سفر ہو گا
_________
میں بھی اچھا تھا وہ بھی پیارا تھا
پھر خدا جانے مسئلہ کیا تھا
یوں نہیں تھا سنا نہیں میں نے
در گذر کر دیا تھا، ایسا تھا
یہ لگا تار بولنے والے
سوچ کر بولتے تو اچھا تھا
جانے کب واپسی کا اذن ملے
ہم نے مڑ مڑ کے اس کو دیکھا تھا
دھوپ رستہ بدل کے چلتی تھی
گھر کے آنگن میں پیڑ ہوتا تھا
پھر نکلنے نہیں دیا ہم نے
کوئی آواز دے کے بھاگا تھا
_________
اپنے مابین جو رفاقت ہے
سالہا سال کی ریاضت ہے
کون اب خامیاں شمار کرے
جب محبت ہے تو محبت ہے
میں محبت سمجھ رہا ہوں جسے
اس کے نزدیک صرف عادت ہے
میرے ہونٹوں پہ رک گئی آ کر
بات کہنا بھی کیا قیامت ہے
بے تکلف کلام کا رشتہ
سانس لینے کی اک سہولت ہے
خواب بے سود ہی سہی انورؔ
زندگی کی مگر علامت ہے
_________
جھوٹ جب درجہء ایمان میں آ جاتا ہے
ایک مردار سا انسان میں آ جاتا ہے
میں نے دربانی اسے سونپی تھی لیکن ظالم
چھوڑ کر در میرے دالان میں آ جاتا ہے
ظلم پر خامشی آسان تو لگتی ہے مگر
ایک فرمان مرے دھیان میں آ جاتا ہے
کھیتیاں راکھ کی صورت میں بھی ڈھل سکتی ہیں
جب تکبر کسی دہقان میں آ جاتا ہے
کم تو کچھ میرا اثاثہ بھی نہیں ہے اور کچھ
تیرا دکھ بھی میرے سامان میں آ جاتا ہے
تالیاں پیٹتے مجمعے سے نکل کر انورؔ
جیت سکتا ہے، جو میدان میں آ جاتا ہے
_________
ہم اپنے احساس کے پھولوں سے ہر سینہ مہکائیں تو
لیکن بے حس آگ لگانے والے شعلے بھڑکائیں تو؟
اپنے جذبوں پر تہمت سے تو ہم کر لیں صرفِ نظر
لیکن تیرے پیار کو دنیا والے باطل ٹھہرائیں تو؟
منزل پائیں یا نہ پائیں لیکن لوگ یہ ہمت والے
ساری عمر کی کوہ کنی کے بعد بھی قیس ہی کہلائیں تو؟
ٹھیک ہے تیرے خواب میں اپنی آنکھیں بند رکھوں گا لیکن
سورج کی کرنیں پلکوں پر دستک دینے لگ جائیں تو؟
دنیا داری تو کہتی ہے خاموشی بہتر ہے انورؔ
لیکن خاموشی کو وہ کچھ اور ہی معنی پہنائیں تو؟
_________
ہم یوں تیری یاد میں اکثر کھو جاتے ہیں
سارے چہرے تیرے جیسے ہو جاتے ہیں
اور اچانک آنکھ سے اوجھل ہونے والے
پلکوں میں اشکوں کے ہار پرو جاتے ہیں
پھر محفل کی خیر منانا پڑ جاتی ہے
ایک کے آنے پر جب اٹھ کر دو جاتے ہیں
گم راہی جب ظلم کی حد میں آ جائے تو
منزل، رستے، راہی دھند میں کھو جاتے ہیں
کتنی بے بس مائیں پی جاتی ہیں آنسو
کتنے بچے روتے روتے سو جاتے ہیں
آئیں مل جل کر اپنے بچوں کی خاطر
دھول کدورت کی سینوں سے دھو جاتے ہیں
کبھی کبھی تو دور دراز کے لوگ بھی انورؔ
اپنے خواب ہماری آنکھ میں بو جاتے ہیں
_________
بہت برہم نظامِ زندگی ہے
کہیں میری، کہیں تیری کمی ہے
شناسا عکس ابھرا آئینے میں
ذرا جو دھول چہرے سے ہٹی ہے
ہمارے دل میں سب آباد کاری
تمہارے نام پر ہوتی رہی ہے
بتا دیتی ہیں چہرے کی شعائیں
کسی کے دل میں کتنی روشنی ہے
ہمارے خواب آنکھیں ڈھونڈتے ہیں
مگر اک آنکھ تھی جو سو گئی ہے
لہو میں رقص کرتی ہے محبت
رگوں میں نارسائی چیختی ہے
ادھورا رہ گیا ہے خواب انورؔ
ہماری کال کب کی کٹ چکی ہے
_________
تمہیں گماں کہ رکاوٹ بنا ہوا ہوں میں
تمہاری راہ سے کانٹے ہٹا رہا ہوں میں
دھرا گیا تھا جو الزامِ بے ثبوت اس کی
صفائی دیتے ہوئے آدھا رہ گیا ہوں میں
تری نظر کا اشارہ ملے تو رخصت لوں
تماش بینوں میں کب سےگِھرا ہوا ہوں میں
اگر فراق کی راہیں نہیں قبول تجھے
تو صبر کر ذرا، کچھ اور سوچتا ہوں میں
تو ایک شب کی مسافت نہیں سہار سکا
ترے لئے مگر اک عمر تک چلا ہوں میں
کسی کسی پہ در دل ہوا ہے وا انورؔ
ہر ایک شخص پہ ورنہ کہاں کھلا ہوں میں
_________
گئی رتوں کا نظر سے غبار گزرے گا
کبھی جو قافلہء بوئے یار گزرے گا
ابھی تو آنکھ سے ٹپکا ہے درد کا لاوا
ابھی یہ زہر رگوں کے بھی پار گزرے گا
اسے یہ ضد کہ سرِ عام اعتراف کروں
مجھے خبر ہے اسے ناگوار گزرے گا
گلاب سوکھا ہوا پھینک کر کہا اس نے
نئے سفر میں طبیعت پہ بار گزرے گا
ہماری خستہ تنی معتبر لگے گی تمہیں
تمہاری جان پہ جب انتظار گزرے گا
پھر ایک موڑ پہ سسکار کر کہا اس نے
اُمید ہے کہ سفر خوشگوار گزرے گا
رہِ وفا نہیں سب کے نصیب میں انورؔ
یہاں سے صرف کوئی راز دار گزرے گا
_________
تمہارا قرب سفر کا مآل ہو جائے
تو جسم و روح کا رشتہ بحال ہو جائے
مقام ایسا محبت میں آ گیا ہے جہاں
فراقِ دوست کا لمحہ بھی سال ہو جائے
ہم ایسے میرِ سفر کی ہیں اقتداء میں کہ جو
قدم اٹھانے سے پہلے نڈھال ہو جائے
میں جانتا ہوں وہی اک جواب ہے پھر بھی
یہ سوچتا ہوں نیا اک سوال ہو جائے
مری تو خیر ہے لیکن جہاں پناہ اگر
تمام شہر پہ ہستی وبال ہو جائے؟
حضور لوگ گریباں پہ ہاتھ ڈالتے ہیں
حضور پھر سے کوئی قیل و قال ہو جائے
مطالبہ تو کوئی کیا کریں گے ہم انورؔ
یہی بہت ہے اگر عرضِ حال ہو جائے
_________
قطعہ
ہم سے تعبیر ہو نہیں پائے
خواب زنجیر ہو نہیں پائے
یہ محبت کے رنگ ہیں انور
یہ جو تصویر ہو نہیں پائے
_________
گردشِ ایام
تیرے غم پر دھند سی چھانے لگی
بے کلی میری سکوں پانے لگی
زندگی معمول پر آنے لگی
سبز منظر، پھول، تتلی اور میں
دل میں کوئی یاد مسکانے لگی
میری دھڑکن رنگ دکھلانے لگی
ظلم کچھ ایسے مسلط ہو گیا
روح تک انساں کی مرجھانے لگی
عدل کی میزان شرمانے لگی
ناخداؤں کا چلن مشکوک ہے
موجِ دریا جان کو آنے لگی
جانے اب کشتی کدھر جانے لگی
اک قدم اٹھا ہی تھا انور ابھی
منزلوں پر تیرگی چھانے لگی
گردشِ ایام تڑپانے لگی
_________
آغاز
ابھی تو آغاز ہے سفر کا
ابھی سے گھبرا رہے ہو انورؔ؟
ابھی تو گردِ سفر نے
چہرے پہ رنگ اپنا اُبھارنا ہے
ابھی توخواہش کی لو نے
جسموں کے زر کو کندن میں ڈھالنا ہے
_________
تضاد
جس کی صورت گلاب جیسی تھی
رنگ پیلا پسند تھا اس کو
تھی ہمیں چاکلیٹ کی خواہش
اور ونیلا پسند تھا اس کو
_________
کہانی
تم مری کہانی ہو
زیست کی نشانی ہو
ہو حیات کا محور
تم بدن کا پانی ہو
خون سرخ ہے تم سے
سانس کی روانی ہو
تم مری محبت ہو
تم مری جوانی ہو
مختصر کہوں انورؔ
وجہِ زندگانی ہو
_________
شاعری
ہجر بھی شاعری،وصل بھی شاعری
درد ہے شاعری اور سکوں شاعری
رنگ بھی شاعری ، پھول بھی شاعری
اور ماحول میں پھیلتی خوشبوئیں شاعری
دن کی تابندگی شاعری، رات کا ہر فسوں شاعری
آگ بھی شاعری
اور سمندر سے اٹھتی ہوئی لہر کی ہر تباہی بھی اک شاعری
ہے ہوس شاعری
اور قناعت کا حسنِ یقیں شاعری
شاعری کُن بھی ہے
اور دھنکی ہوئی روئی کی مثل اڑتے ہوئے کوہ بھی شاعری
شاعری ہے ازل، شاعری ہے ابد
یہ زمیں، آسماں اور ان کے میاں
سب کا سب شاعری
شاعری وقت ہے
شاعری استعارہ توازن کا ہے
اور یہ کائناتِ بسیط اک مکمل توازن کا شہکار ہے
_________
ایف بی فرینڈ
چہرہ اس کا سادہ سا ہے ، گیسو ہیں پیچاک
پلکیں تیروں جیسی ہیں اور لہجہ ہے بے باک
ہر اک دوست کے بارے میں رائے اس کی بے لاگ
جس کو سن کر کچھ لوگوں کو لگ جاتی ہے آگ
ایف بی پر جو دوست ہے اس کی نظموں میں ہے کون
رنگوں اور خوشبوؤں جیسی غزلوں میں ہے کون
کون ہے بھائی بن کر اس کے قرب کا خواہش مند
کس نے بیٹی کہہ کر دیکھے پیراہن کے بند
کس کی آنکھوں میں روشن ہے نیت کا اخلاص
کس کے جذبوں میں ہے تازہ پھولوں کی بُو باس
جھانکے وہ لفظوں کے اندر، معنی اخذ کرے
شعر کے آئینے میں اُترے، شاعر تک پہنچے
چہرے سے ہے بھولی بھالی اندر سے چالاک
کون اسے دیکھے ہے کیسے، اس کو ہے ادراک
_________
امرینہ٭
تیری آنکھوں میں نیر امرینہ
دل کو جاتے ہیں چیر امرینہ
چاشنی بھی ہے گفتگو میں تری
اور جملے ہیں تیر امرینہ
کوئی بل، کوئی بھی فریب نہیں
ایک سیدھی لکیر امرینہ
علم بھی، ظرف بھی، سلیقہ بھی
خوبصورت نظیر امرینہ
ایک ” امتل“ ہے اس کے اندر بھی
اک گھٹن کی اسیر امرینہ
اس کے تھکتے ہوئے وجود میں ہے
ایک چنچل ، شریر امرینہ
یہ بھی سچ ہے کہ اپنی فطرت میں
چاہتوں کی سفیر امرینہ
رب کعبہ کی رحمتیں اس پر
ہے بہت با ضمیر امرینہ
ایک احساسِ بے صدا انورؔ
خامہء بے صریر امرینہ
٭ ۔۔۔۔۔عمدہ دوست، ڈاکٹر امرینہ بابر_________
تینوں کُجھ وی دسیا نئیں سی
وِچ کڑِکی کسیا نئیں سی
تُوں تے ایویں مُنہ وَٹیا اے
میں تیرے تے ہسیا نئیں سی
مُڑ جاویں تے چَنگا رہیں گا
فیر ناں آکھیں دسیا نئیں سی
پھاہے لگن والا بندا
اپنی گَل توں نسیا نئیں سی
اوہدے نال وی میں وسیا واں
دل جیہدے ناں رسیا نئیں سی
اَنت وچھوڑے جھومر پائی
میں دا پتھر گھسیا نئیں سی
_________
ازلاں دے پانی نیں کوئی اَجدے نئیں
ساڈے نِیر تہاڈی اکھ اچ سجدے نئیں
سانوں گِرجاں وانگوں کھاون والے لوک
کھا کھا مُودھے ہو جاندے نیں رجدے نئیں
سجنا دُھپ توں آپے بچنا پیندا اے
کِسے دے آکھے سر توں چادر کجدے نئیں
دَولے شاہ دے چوہے سمجھ نئیں سکدے
مَیّت اُتے ڈھول خوشی دے وجدے نئیں
ایویں رولا پائی جان دا فیدا کیہ
وسن والے وس جاندے نیں گجدے نئیں
ساڈی وستی وچ انور ہُن کیہ دسیئے
عمرے دے شیدائی ہے نیں، حج دے نئیں
_________
ایہ تیرے نہ میرے لوک
اپنی مَیں دے گھیرے لوک
جُتیاں لاہ کے نَسدے پھردے
میرے چار چوفیرے لوک
دل دا کعبہ وسدا ناہیں
لیندے سو سو پھیرے لوک
میں لبھناں واں پیار دا سورج
ونڈ دے پھرن ہنیرے لوک
راتِیں ڈر دے مارے جاگن
نیندر لین سویرے لوک
چَم چَم چمکن محل منارے
بجھدے جاندے میرے لوک
اپنا پینڈا کھوٹا ناں کر
سانوں ہور بتھیرے لوک
دنیا دے کولہو وچ لیندے
ڈھگیاں وانگوں پھیرے لوک
_________
ساڈے گھر دے دیوے ویکھ کچیچی وٹ دی تُر پینی ایں
تیز ہوائے سوچ کے آوِیں منہ دی کھانی پے سکدی اے
اپنی آئی تے آ جایئے تے تیرا گھر وی سڑ سکدا اے
اگّاں لاون والیا تینوں اگ بجھانی پے سکدی اے
_________
اوکھے ویلے تھوڑے لبھدے، اوویں یار بتھیرے
خوشیاں دی رُتاں وچ بن جاندے دلدار بتھیرے
کیہ ہویا جے تیرے پیار اچ تیریاں گلاّں منّیاں
اُنج تے چار چوفیرے ساڈے سَن فنکار بتھیرے
ہُن تے سارے ویلے دُھپ تے دکھ ای بن کے رہ گئے
ننگھےہن اوہ ویلے ، ہوندے سی چھتنار بتھیرے
اندرو اندری سانوں مار مکان دا سوچن سارے
اوویں ساڈے نال جتاندے لوکی پیار بتھیرے
کلّیاں جد وی ملیا ساڈے نال ریہا اوہ رُسیا
محفل وچ تے اوہنے سانوں پائے ہار بتھیرے
ساڈا جگرا طعنے میہنے ہاسے وچ اُڈا گئے
اوویں گھٹ نئیں کیتی لوکاں کیتے وار بتھیرے
صورت ویکھ گویڑ نہ لاویں اس دنیا وچ انورؔ
بندے اندر ہو سکدے نیں انھے غار بتھیرے
_________
نت ایتھے اک چَن چڑھایا جاندا اے
مرگاں اُتے ڈھول وجایا جاندا اے
اپنی میں اِچ انھے ہو جاندے نیں لوک
اپنے گھر نوں آپے ڈھایا جاندا اے
کدی تے چوری کرن تو روکن والے نوں
چوراں دے ہتِھیں پھڑوایا جاندا اے
لڑ دے لڑ دے دونویں بندے مُک جاندے
کجھ کیساں نوں اِنج لٹکایا جاندا اے
دشمن اگے سٹ دئیے ہتھیار تے فر
مارن تو پہلے تڑفایا جاندا اے
ساڈے پاسے بُھکھ دے مارے بالاں نوں
گلِیں باتِیں وی پرچایا جاندا اے
کجھ وی لکھن توں پہلاں ساڈے مسلک اچ
کاغذ اُتے دل بنوایا جاندا اے
اندر و اندری کھیڈاں ہندیاں ہور انورؔ
لوکاں نوں کجھ ہور وکھایا جاندا اے
_________
تُوں آکھیں تے رنجش والی ساری گَل مکا دینے آں
تُوں آکھیں تے غزلاں نظماں تیرے ناویں لا دینے آں
سونے ورگے ساڈے جذبے، کندن ورگا تیرا روپ
چل فِر اَج سونے کندن نوں اک بھٹھی وچ پا دینے آں
ساڈا کیہ اے من موجی آں، پل اچ ماشہ پل اچ تولہ
اپنے ہتِھیں محل بنا کے اپنے ہتِھیں ڈھا دینے آں
چھڈ نا ! اینویں دل تے لے کے بیٹھے ریہن دا فیدا کیہ
سانوں ویکھ ہزاراں میہنے ہاسے وچ اڈا دینے آں
توں وی جیہڑا سپ کڈھنا اے وچ مدان دے آ کے کڈھ
اسیں وی عادت توں مجبور آں، پیار دی بین وجا دینے آں
توں تے جگر ایں، ڈاہڈا وی ایں، تیری گل ای ہور اے کجھ
اسیں تے ماڑے بندے نوں وی پاسے ہو کے راہ دینے آں
ٹھیک اے اِنج تے اِنج ای سہی فر اوہدے پاسے وی انور
اگ دا مینہ ورھا دینے آں لہو دی نہر وگا دینے آں
_________
اپنے گَل وچ پھاہی پائی بیٹھا واں
کِکر تے انگور چڑھائی بیٹھا واں
اوہنوں اپنے آپ توں اگے دِسدا نئیں
جس بندے تے آساں لائی بیٹھا واں
رُسن رُسن کھیڈن والیا تیرے لئی
میں مندری تے ناں لکھوائی بیٹھا واں
اللہ جانے کیہ تعبیراں ہونیاں نیں
سُفنے ویکھ کے دل پرچائی بیٹھا واں
میں چاہنا واں گَل تیرے تے ناں آوے
تُوں پیا سمجھیں ڈھیری ڈھائی بیٹھا واں
اَگے کُھو تے پچھے ڈوہنگی کھائی اے
اوکھی تھانویں سِنگ پھسائی بیٹھا واں
کدی تے انور پُھلاں دی رُت آوے گی
تیرے ناں دے بوٹے لائی بیٹھا واں
_________
ایک سرائیکی قطعہ
میڈھی گالھ اے اپنے یاریں نال
تیکوں کینہ آکھے تُوں اوکھا تھی
ایہہ روز دی کِل کِل چنگی نئیں
ہک وار مُکا، تے سوکھا تھی
_________

Comments
Post a Comment